ایران جنگ اور ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں نے امریکی عوام کی مشکلات کیسے بڑھا دیں؟

امریکہ میں ایران کے خلاف جاری جنگ، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور درآمدی مصنوعات پر عائد محصولات نے شہریوں کے معاشی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ عوامی سروے کے مطابق 78 فیصد امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث اشیا کی قیمتیں ان کی آمدنی سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی اور جنگ کے معاشی اثرات امریکی سیاست میں اہم موضوع بن گئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی 24 اکتوبر کو شائع ہونے والی خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی خارجہ پالیسی اس مرتبہ براہِ راست شہریوں کے روزمرہ اخراجات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے درآمدی مصنوعات پر عائد محصولات نے امریکی صارفین کے لیے معاشی مشکلات پیدا کی ہیں۔ عام طور پر امریکی وسط مدتی انتخابات میں ملکی معیشت زیادہ اہم ہوتی ہے، تاہم اس مرتبہ جنگ اور خارجہ پالیسی بھی ووٹرز کی معاشی ترجیحات سے جڑ گئی ہیں۔

رائٹرز اور اِپسوس کے اکتوبر میں کیے گئے سروے میں 4 ہزار 506 امریکی بالغ افراد کی رائے لی گئی۔ نتائج کے مطابق 78 فیصد افراد نے قیمتوں میں اضافے کا کم از کم کچھ ذمہ دار ٹرمپ کی پالیسیوں کو قرار دیا۔ ان میں 64 فیصد ریپبلکن اور 76 فیصد آزاد خیال ووٹرز بھی شامل تھے۔ سروے میں شامل 57 فیصد ریپبلکن حامیوں نے کہا کہ ان کے روزمرہ اخراجات تنخواہوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

امریکی شہریوں کے لیے ایندھن کی قیمتیں ایک بڑی تشویش بن چکی ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.36 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی تھی۔ عالمی توانائی کی منڈی میں ایران جنگ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے نقل و حمل، فضائی سفر اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں، جن کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑ سکتا ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے 28 ستمبر سے 4 اکتوبر کے درمیان کیے گئے سروے میں 73 فیصد امریکی شہریوں نے ایران جنگ کے باعث پیٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش ظاہر کی۔ اسی سروے میں 71 فیصد افراد امریکی فوجیوں کے زخمی یا جاں بحق ہونے کے خدشات سے پریشان تھے۔ سروے میں 65 فیصد شہریوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق ٹرمپ کے اقدامات سے اختلاف کیا، جبکہ 33 فیصد نے ان کی حمایت کی۔

ایران جنگ سے متعلق امریکی عوام کے خدشات

یہ شرح ان افراد کی ہے جنہوں نے متعلقہ مسئلے پر بہت زیادہ یا انتہائی تشویش ظاہر کی۔

مہنگائی کے باعث امریکی خاندان اپنے اخراجات میں تبدیلیاں بھی کر رہے ہیں۔ رائٹرز اور اِپسوس کے سروے کے مطابق بعض شہریوں نے ریسٹورنٹس میں کھانے، تفریح اور غیر ضروری سرگرمیوں پر خرچ کم کر دیا ہے۔ دوسری جانب رہائش کے اخراجات اور قرضوں پر سود کی بلند شرح بھی گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق درآمدی محصولات اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سمیت کئی عوامل مہنگائی پر اثر انداز ہو رہے ہیں، اس لیے تمام معاشی مشکلات کو صرف ایران جنگ سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

صدر ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے دوران مہنگائی کم کرنے اور امریکی شہریوں کے معاشی حالات بہتر بنانے کے وعدے کیے تھے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ان کی انتظامیہ کو قیمتوں میں اضافے پر تنقید کا سامنا ہے۔ وائٹ ہاؤس اپنی معاشی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے ٹیکس میں کمی اور ادویات کی قیمتیں کم کرنے جیسے اقدامات کو حکومتی کامیابی قرار دیتا ہے۔ اس کے باوجود رائٹرز اور اِپسوس کے سروے میں 68 فیصد امریکی شہریوں نے مہنگائی سے نمٹنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات تین نومبر 2026 کو ہوں گے، جن میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ اِپسوس کے اگست میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 47 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے زندگی گزارنے کے اخراجات کو اپنے ووٹ کے فیصلے میں سب سے اہم عنصر قرار دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ، مہنگائی اور معاشی پالیسیوں پر عوامی ردعمل انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم سروے کے نتائج سے کسی جماعت کی کامیابی یا شکست کا حتمی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

امریکہ میں جنگ اور انتخابات کے تعلق کی ایک اہم مثال 2006 کے وسط مدتی انتخابات ہیں، جب عراق جنگ کے دوران صدر جارج ڈبلیو بش کی ریپبلکن جماعت کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو بیٹھی تھی۔ رائٹرز کے تجزیے کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھی خارجہ پالیسی کے معاشی اثرات ووٹرز کی ترجیحات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم 2006 اور 2026 کے سیاسی اور معاشی حالات یکساں نہیں ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی صورت میں امریکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ جنگ میں ممکنہ توسیع عالمی تیل کی منڈی میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، جبکہ سفارتی مذاکرات سے کشیدگی کم ہونے کی صورت میں توانائی کی منڈی پر دباؤ میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم دونوں صورتوں کے معاشی نتائج کا انحصار آنے والے فیصلوں اور عالمی منڈی کے ردعمل پر ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں