ازبک صدر کا دورہ پاکستان: دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کہاں کھڑے ہیں؟

وسطی ایشیا کے قلب میں واقع ازبکستان جغرافیائی، آبادی اور معاشی اعتبار سے خطے کا ایک اہم ملک ہے۔ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو محض سفارتی نوعیت تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ تاریخ، مذہب اور ثقافت کے مضبوط رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 10 مئی 1992 کو قائم ہوئےاور اس کے بعد سے یہ بتدریج مضبوط ہوتے چلے گئے۔

اس پورے دورانیے میں پاکستان اور ازبکستان نے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سیاسی مشاورت، مشترکہ وزارتی کمیشن اور مشترکہ سلامتی کمیشن جیسے فورمز قائم کیے۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے نہ صرف سیاسی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ تجارت اور معیشت کے شعبے میں بھی تعاون کی نئی راہیں کھلی ہیں۔

ازبکستان وسطی ایشیا کی سب سے بڑی کنزیومر منڈی اور دوسری بڑی معیشت ہے۔ پاکستان کے لیے ازبکستان اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ یہ پہلا وسطی ایشیائی ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان نے تجارتی آمد و رفت کا معاہدہ کیا۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم 434 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اگر اس کا موازنہ سال 2023 سے کیا جائے تو یہ تقریباً 22 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

دونوں ممالک کا ہدف ہے کہ فوری اور مختصر مدت میں باہمی تجارت کو 1 ارب ڈالر تک پہنچایا جائےجبکہ طویل المدتی ہدف اسے 2 ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان خصوصی تجارتی معاہدہ مارچ 2023 میں نافذ کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ابتدا میں 17 اشیا پر کسٹم ڈیوٹی کم یا ختم کی۔ بعد ازاں 2025 کے اختتام تک اس فہرست کو بڑھا کر کم از کم 100 اشیا تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا۔اس معاہدے کے تحت پاکستان ازبکستان کو ادویات، کینو، چاول اور جراحی کے آلات برآمد کر رہا ہےجبکہ ازبکستان پاکستان کو دالیں، سوتی دھاگا اور دیگر اجناس فراہم کر رہا ہے۔

ازبکستان۔پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ

ازبکستان۔پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ جولائی 2021 میں طے پایا، جو مارچ 2022 سے نافذ العمل ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے ازبکستان کو پاکستان کی بندرگاہوں کراچی، بن قاسم اور گوادر تک براہِ راست رسائی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے تحت ازبک ٹرک بغیر رکاوٹ سامان پاکستانی بندرگاہوں تک پہنچا سکتے ہیں، جبکہ ڈرائیوروں کے ویزوں اور گاڑیوں کے کاغذات کے عمل کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔

فروری 2023 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک ارب ڈالر کے اسٹریٹجک تجارتی معاہدے پر بھی اتفاق ہوا، جس کا مقصد قلیل مدت میں باہمی تجارت کو فروغ دینا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تجارت کو موجودہ سطح سے بڑھا کر پہلے ایک ارب اور بعد ازاں دو ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ بھی پاکستان اور ازبکستان کے تجارتی مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کو ریل کے ذریعے منسلک کیا جائے گا، جس سے سامان کی ترسیل کا وقت کم ہو کر چند دن رہ جائے گا اور اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ اگرچہ یہ معاہدہ بعض سٹریٹیجک وجوہات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے لیکن دونوں ممالک اس کی تکمیل کے لیے پر عزم دکھائی دیتے ہیں، حتی کہ ازبکستان نے اپنے حصے کا کام بھی مکمل کرلیا ہے۔

اس پس منظر میں صدر شوکت مرزائیوف کا موجودہ دورۂ پاکستان نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ تمام پیش رفت گزشتہ چند برسوں میں مختلف ملاقاتوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔

سال 2022 میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہواکیونکہ یہ کسی ازبک صدر کا 16 سال میں پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ اس موقع پر اعلیٰ سطح ملاقاتیں ہوئیں، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطہ کاری اور ٹرانزٹ سہولیات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اسی دورے کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔ بعد ازاں نومبر 2023 میں صدر شوکت مرزائیوف اور پاکستان کے عبوری وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ کے درمیان تاشقند میں ملاقات ہوئی، جبکہ 2025 میں پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے تاشقند کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ دورہ دراصل 2022 میں طے پانے والے فیصلوں کا تسلسل تھا۔ تاشقند میں ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں ممالک نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کن شعبوں میں پیش رفت ہوئی اور کن شعبوں میں مزید کام کی ضرورت ہے۔

ان تمام اقدامات کے بعد آج پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں بات صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی تعاون، سرمایہ کاری اور مشترکہ ترقیاتی منصوبوں تک پھیل چکی ہے۔ دونوں ممالک اس امر پر متفق ہیں کہ باہمی تجارت نہ صرف ان کی معیشتوں کو مضبوط کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور خوشحالی کا باعث بھی بنے گی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں