سماجی رابطے کے ایک پلیٹ فارم پر گزشتہ چند دنوں سے کچھ ویڈیوز وائرل ہیں جن میں خون آلود دو نوجوان بھاری بھرکم پتھروں کے نیچے اپنے گھر والوں سے پیسے بھیجنے کی فریاد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دل دہلا دینے والی ان ویڈیوز میں نوجوانوں کا پورا جسم پتھروں سے ڈھکا ہے جبکہ ایک اور ویڈیو میں دونوں کو زنجیروں سے جکڑا گیا ہے۔ ویڈیو میں ایک نوجوان درد سے مسلسل کراہ رہا ہے جبکہ دوسرا “پیسہ بھیج دو، پیسہ بھیج دو، ہمیں مار دیا” کی آوازیں لگا رہا ہے۔
ویڈیو بنانے والا ان دونوں کے زخمی سر اور ہاتھ دکھا رہا ہے جبکہ نظر نہ آنے والا ایک اور شخص ڈنڈے سے ان پر تشدد بھی کر رہا ہے۔ اس تکلیف دہ ویڈیو کی آزادانہ تصدیق کرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ ان دونوں نوجوانوں کا تعلق تحصیل مریدکے کے گاؤں اونچا پنڈ سے ہے۔ دونوں نوجوانوں کی عمر 25 سے 30 سال کے درمیان ہے۔ ایک نوجوان کا نام اسلم اور دوسرے کا لطیف ہے (صحافتی اخلاقی اصولوں کے پیشِ نظر متاثرہ نوجوانوں کے نام فی الوقت صیغۂ راز میں رکھے جا رہے ہیں)۔
ہم نے ان دونوں کے خاندان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اسلم (فرضی نام) کے بھائی عامر اسحاق نے ہمیں بتایا کہ “اسلم میرا چھوٹا بھائی ہے اور لطیف دور کا رشتے دار ہے۔ یہ دونوں اس وقت سرحد پار کسی نامعلوم مقام پر اغواکاروں کے قبضے میں ہیں اور وہ تشدد کی ویڈیوز ہمیں بھیج رہے ہیں۔”
اسلم اور لطیف کے اغوا کا معاملہ اس وقت کسی ریاستی ادارے کے پاس رپورٹ نہیں ہوا۔ خاندان والوں کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ اغواکاروں نے انہیں اس طرح کا کوئی قدم اٹھانے سے منع کر رکھا ہے۔ اس کیس کے تانے بانے مروجہ ڈنکی والے گروہوں سے جا ملتے ہیں جو نوجوانوں کو بہتر مستقبل کی امید دے کر ورغلاتے ہیں اور بعد ازاں اغوا کر کے پیسے بٹورتے ہیں۔
عامر اسحاق نے بتایا کہ “اسلم یہاں پر سلائی کا کام کرتا تھا۔ ایک سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی۔ تقریباً 22 دن پہلے وہ اس سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اس دوران اسلم کی غیر موجودگی میں اس کی بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی۔ سفر پر روانگی سے کچھ ہی روز پہلے اسلم نے ہمیں خبر دی کہ اس نے ایجنٹ کو پیسے دیے ہیں اور ایران ایک مہینے کے وزٹ پر جا رہے ہیں جبکہ ان کی ٹکٹ بھی ہو گئی ہے۔”
اسلم اور لطیف کو یہاں سے سفر پر نکلتے ہوئے کوئی تئیس دن ہو گئے ہیں۔ دو لاکھ پر ان کی ایجنٹ کے ساتھ ڈیل ہوئی تھی لیکن لاہور پہنچنے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ ٹکٹ میں مسائل آ رہے ہیں، لہٰذا یہاں سے بذریعہ بس کوئٹہ جائیں گے اور وہاں سے سستی ٹکٹ لے کر ایران جانا آسان ہو جائے گا۔ اسلم کے بھائی کے مطابق” کوئٹہ پہنچنے کے بعد انہوں نے چار لاکھ مزید پیسے مانگ لیے۔ اسی طرح ایران پہنچ گئے تو اسلم نے سات لاکھ روپے کے لیے پھر رابطہ کیا۔”
خاندان والوں کے مطابق “کوئٹہ میں ہی ان دو نوجوانوں پتہ چلا کہ یہ ایجنٹ انہیں ڈنکی کے ذریعے سرحد پار کروانا چاہتے ہیں۔ وہ قانونی طور پر ایران جانا چاہتے تھے اور اس کے لیے ایجنٹ نے ان سے پاسپورٹ بھی لے لیے تھے اور ویزا بھی لگوا دیا تھا۔”
عامر اسحاق کہتے ہیں کہ “اس کے بعد کبھی دو اور کبھی پانچ لاکھ کے مطالبات آتے گئے۔ مختلف ایرانی اور ترک نمبروں سے ہمارے ساتھ رابطے ہوتے رہے کہ اتنی رقم بھیج دیں ورنہ انہیں مار دیں گے۔ اسی طرح کوئی ایک ہفتے سے یہ دردناک ویڈیوز موصول ہو رہی ہیں۔ اغواکاروں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ان کی طرف سے یہی ویڈیوز آ رہی ہیں جبکہ بقیہ لین دین ایجنٹ سے جاری ہے۔”
ایجنٹ کا تعلق قصور کے علاقے کچی کوٹی سے ہے۔ عامر نے مزید بتایا کہ “میرے والد صاحب تین روز سے ایجنٹ کے پاس ہیں۔ کل بھی اسے چھ لاکھ روپے مزید دیے ہیں۔ کل تک دونوں لڑکوں کی بازیابی کے لیے اب تک ہم 60 لاکھ روپے دے چکے ہیں۔ ہم نے اپنی زمینیں اور زیورات بیچ دیے ہیں، بس رہنے کے لیے گھر باقی ہے۔”
عامر اسحاق نے بتایا کہ “کچی کوٹی سے تعلق رکھنے والے مرکزی ایجنٹ کا نام حاجی اعجاز سلیم ہے اور اس کے نیچے عمران نامی ایک لڑکا بھی ہے، جن کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے۔” عامر جب ہم سے گفتگو کر رہا تھا، اس وقت بھی ان کے والد تین روز سے قصور میں ایجنٹ سے بات کرنے کے لیے رکے ہوئے تھے۔
عامر اور اس کے والد سارا لین دین ایجنٹ کے ساتھ ہی کر رہے ہیں اور وہی پیسے لے کر آگے بھجواتا ہے۔ عامر کے مطابق ایجنٹ اس میں پورا ملوث ہے۔ یہ ایک پورا نیٹ ورک ہے جو اس طرح اغواکاری کا کام کرتا ہے۔
اسلم کے علاوہ دوسرا لڑکا لطیف رشتے میں عامر اسحاق کا ماموں لگتا ہے۔ یہ دونوں بذاتِ خود ایجنٹ کے ساتھ رابطے میں تھے۔ انہوں نے گھر والوں کو بعد میں بتایا تھا کہ وہ ویزے کے ذریعے ایران جا رہے ہیں کیونکہ انہیں خود ڈنکی لگانے کا علم نہیں تھا۔ کوئٹہ میں ان کو ڈنکی کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے ان لوگوں کے سامنے بھی ہاتھ جوڑ کر منتیں کیں اور گھر والوں کو بھی اطلاع پہنچائی لیکن انہوں نے جانے نہیں دیا۔
عامر اسحاق کہتے ہیں کہ “اسلم نے مجھے فون کال کی کہ یہ لوگ ہماری گنتی لگوا رہے ہیں لیکن ہم نہیں جانا چاہتے۔ اس کے باوجود انہوں نے کوئی بات نہیں سنی۔ اس وقت ہم نے تینوں ایجنٹس سے بات کی کہ ان کو غیر قانونی طریقے سے نہ بھیجیں۔ انہوں نے تسلی کرائی کہ یہ قانونی طور پر دو تین دنوں تک پہنچ جائیں گے اور اب ہمیں ایسی ویڈیوز موصول ہو رہی ہیں جنہیں دیکھتے ہی گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔”
اسلم گھر میں سب سے چھوٹا بھائی جبکہ سلیم سب سے بڑا ہے، اس لیے اس کے معاملات بھی اسلم کے گھر والے ہی دیکھ رہے ہیں۔ عامر کہتے ہیں کہ “ساٹھ لاکھ روپے ہم پورا کر چکے ہیں۔ کل دینے والے چھ لاکھ روپے اس کے علاوہ ہیں۔ انہوں نے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ آج کہہ رہے تھے کہ انہیں رہا کر دیں گے لیکن تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔”
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تاشقند اردو کو بتایا کہ “اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ متعدد مغویوں کو ایف آئی اے نے کارروائی کے دوران بازیاب کرایا ہے، جبکہ منظم جرائم میں ملوث ایسے گروہوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔”
انہوں نے درخواست کی کہ “فیملی کو چاہیے کہ فوری طور پر متعلقہ ایف آئی اے دفتر سے رجوع کرے۔ اس میں کسی خوف یا ڈر کی کوئی بات نہیں۔ اداروں پر اعتماد کریں اور اپنا مقدمہ ان کے سامنے رکھیں۔”