پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا دو ریاستی حل اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور

نیو یارک میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی کمیٹی برائے فل-سطین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے آزاد اور خود مختار فل-سطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ فل-سطینی علاقوں، خصوصاً غ-زہ اور مغربی کنارے کی صورتحال فوری اور سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ سفارتی کوششوں سے سیاسی عمل آگے بڑھانے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم انسانی صورتحال اور سکیورٹی سے متعلق سنگین چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ غ-زہ میں جنگ بندی کی تقریباً روزانہ خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے امریکہ، مصر، قطر اور ترکی سمیت ثالثی کرنے والے ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک غ-زہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عمل درآمد آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آباد کاری، آباد کاروں کے تشدد اور الحاق سے متعلق اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات مقبوضہ فل-سطینی علاقوں کی جغرافیائی سالمیت اور تسلسل کو متاثر کرتے ہیں اور مستقبل میں فل-سطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کے منافی قرار دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ صورتحال او آئی سی اور اس کے رکن ممالک کی جانب سے مربوط سفارتی کوششوں کی متقاضی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار 21 سے 25 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے سلسلے میں نیو یارک میں موجود ہیں، جہاں فل-سطین سے متعلق متعدد اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ان کے پروگرام میں شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں