پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے مابین ‘ازبکستان-افغانستان-پاکستان (UAP) ریلوے کوریڈور’ کے تحت نیب آباد-خارلاچی ریلوے رابطے کی فیزیبلٹی اسٹڈی کے لیےسہ فریقی مشترکہ فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و زیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج کابل کا دورہ کیا جہاں ان کی اہم حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔
معاہدے پر دستخط کے دوران اسحاق ڈار نے تینوں ممالک کے عوام اور حکومتوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ،یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد اور باہمی تعاون کی روشن مثال ہے، جو خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے کھولے گا۔

انہوں نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف اور افغانستان کے ہم منصب امیر متقی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ، معاہدے کی بروقت تکمیل تمام فریقوں کے عزم، تعاون اور مسلسل رابطے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ، مذاکرات کے ہر مرحلے میں تمام شریک ممالک نے بھرپور دلچسپی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ، یہ منصوبہ وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی بندرگاہوں سے جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ بنے گا، جس سے نہ صرف تجارت میں سہولت پیدا ہوگی، بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی کو نئی جہت ملے گی۔

اسحاق ڈار نے یہ بھی یاد دلایا کہ، اس منصوبے کی بنیاد 2022-23 میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) حکومت کے دوران رکھی گئی، جب انہیں بحیثیت وفاقی وزیر خزانہ اس اقدام کی قیادت سونپی گئی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ، یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ وژن، علاقائی تعاون، اور اقتصادی انضمام کے لیے پختہ عزم کا مظہر ہے۔ مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی اب اس منصوبے کی تعمیر اور تکمیل کی راہ ہموار کرے گی، جو آنے والے برسوں میں تجارتی، سماجی اور سفارتی روابط کو نئی سطح تک لے جائے گا۔