چین کے صدر شی جن پنگ نے پہلی بار آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم بحری راستہ معمول کی آمد و رفت کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ اس حساس آبی گزرگاہ میں رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے چین اپنی تقریباً 40 فیصد تیل کی درآمدات کرتا ہے، اور اسی وجہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بیجنگ کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
اگرچہ چین کے پاس کئی ماہ کے لیے تزویراتی توانائی ذخائر موجود ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق عالمی تجارت پر انحصار کرنے والی چینی معیشت طویل عرصے تک جاری رہنے والے بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
چین ایک جانب ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے تو دوسری جانب خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو بھی مضبوط رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ بیجنگ امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں کمی بھی چاہتا ہے، خاص طور پر آئندہ ماہ متوقع ملاقات کے پیش نظر جس میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک ہوں گے۔
اب تک چین اس معاملے میں محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے اور خطے میں براہِ راست مداخلت سے گریز کر رہا ہے، حالانکہ کئی ممالک بیجنگ سے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔