پاکستان، ازبکستان اور افغانستان نے ریلوے لائن منصوبے کی فیزیبلٹی سٹڈی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ کل کابل میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور ریلوے حکام جمع ہوئے اور اس منصوبے کی پرصلاحیت کو چانچنے کے لیے ایک اہم دستاویز پر اتفاق کیا۔
اس منصوبے کو ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ سات سالوں میں یہ منصوبہ مختلف مراحل سے گزرا ہے۔ مجموعی طور پر اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ لینڈ لاکڈ ملک ازبکستان اور اس کے ذریعے سنٹرل ایشیاء کو پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے ساتھ ایک ریلوے لائن کے ذریعے ملایا جائے۔
ازبکستان نے 2011 میں افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف تک 75 کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر کی تھی، جو ازبکستان افغان سرحد پر واقع شہر حیرتان سے جڑتی ہے۔ لیکن زیادہ کرایوں اور انتظامی مسائل کی وجہ سے یہ ریلوے لائن مکمل طور پر استعمال نہیں ہو ئی اور زیادہ تر تجارت حیرتان یا ترمذ کے قریب سڑک کے ذریعے ہی ہوتی رہی۔
اس وجہ سے ازبکستان نے دسمبر 2018 میں ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ تجویز کیا، جس کے تحت مزار شریف سے کابل اور پھر ننگرہار تک ریلوے نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی، جو طورخم کے راستے پاکستان میں داخل ہو گا اور پشاور سے منسلک ہو کر پاکستان کے ریلوے نظام سے جُڑ جائے گا۔ اور یوں مال بردار گاڑیوں کو کراچی، گوادر اور قاسم بندرگاہوں تک پہنچایا جائے گا۔
لیکن بعد میں اس روٹ میں تبدیلی کر کے اسے مزار شریف سے لوگر اور ضلع کرم میں خرلاچی بارڈر تک تبدیل کر دیا گیا۔
10 ستمبر 2020 میں ازبکستان کے نائب وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے دوران اس منصوبے پر دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ بحث کا آغاز ہوا۔ دسمبر 2020 میں دونوں ممالک نے عالمی بینک کے ساتھ سرمایہ کاری کے لیے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ اوائل میں افغانستان میں قائم اشرف غنی حکومت اس کو لے کر سنجیدہ نہیں تھی۔ تاہم، 2 فروری 2021 کو دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ طور پر اس معاہدے پر دستخط ہوئے۔
فروری 2021 میں اس معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان، افغانستان اور ازبکستان پر مشتمل ٹیکنیکل گروپس کےدرمیان تین ملاقاتیں ہوئیں لیکن اگست 2021 میں اشرف غنی حکومت کے خاتمے اور افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ معاہدہ تاخیر کا شکارہوگیا۔
اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے چند ماہ بعد دسمبر 2021 میں ازبکستان نےاس منصوبہ پر دو روزہ آن لائن کانفرنس منعقد کی، جس میں شراکت دار ممالک سمیت قزاقستان اور روس نے بھی حصہ لیا اور اپنی معاونت کی پیشکش کی۔
افغان طالبان نے2022 میں ٹرانس افغان ریلوے منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی،جس کے بعد ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ایک سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا اور جولائی 2023 میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اور سہ فریقی اجلاس میں تینوں ممالک نے اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کیے۔
اس منصوبے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
لینڈ لاکڈ ممالک کی وجہ سے عالمی مارکیٹوں تک وسطی ایشیائی ممالک کی رسائی محدود ہوتی ہے۔ ان ممالک کی برآمدات زراعت، ہائڈروکاربنز اور معدنیات پر مشتمل ہیں۔ان چیزوں کی نقل وحمل کے لیے مضبوط وزن برداشت کرنے اور کم قیمت پر منتقلی کے ذرائع کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ لہذہ، یہ ریلوے لائن منصوبہ وسطی ایشیائی ممالک کو ان اشیاء کی برآمدات کےلیے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی کو آسان بناتا ہے۔
اسی طرح یہاں سے یہ ممالک چابہار اور چینی بندرگاہوں کو بھی استعمال کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ وسطی ایشیائی ممالک ایک بڑے پیمانے پر توانائی پیدا کرتے ہیں جبکہ جنوبی ایشیاء کو توانائی کی ضرورت رہتی ہے۔ اس لیے اس منصوبے کو دونوں خطوں کی ضروریات کے لیے موزوں قرار دیاجاسکتا ہے۔
دوسری جانب وسطی ایشیاء، جنوبی ایشیاء اور جنوب مغربی ایشیاء کے چوراہے پر قائم پاکستان اس منصوبے کی بدولت ایک معاشی ہب بن سکتا ہے۔ جہاں تین خطوں کو ملانے کےلیے پاکستان راہداری کے طور پر کام کرے گا ۔جبکہ اسی طرح کا فائدہ افغانستان بھی سمیٹ سکتا ہے۔