سنیل دت: تقسیمِ ہند کے دکھ، خاندان کی جدائی اور دوبارہ ملاپ کی داستان

بالی وُڈ کے معروف اداکار اور سیاستدان سنیل دت کی زندگی کا ہر باب ایک ڈرامائی کہانی سے کم نہیں۔ کبھی فلم کے سیٹ پر اپنی مستقبل کی بیوی نرگس کو آگ سے بچایا، کبھی پنجاب میں امن و ہم آہنگی کا پیغام دینے کے لیے 500 کلومیٹر کا پیدل سفر کیا۔ انہوں نے اپنی شریکِ حیات نرگس کو کینسر کے باعث کھویا، بیٹے سنجے دت کو نشے کی لت سے نکالنے کے لیے برسوں جدوجہد کی، سیاست میں قدم رکھا، ممبئی میں فٹ پاتھ پر راتیں گزاریں اور بعد میں اپنے بیٹے کو قانونی مشکلات اور جیل سے بچانے کی کوششوں میں زندگی کا بڑا حصہ لگایا۔

سنیل دت کی شخصیت کی اصل تشکیل جوانی میں ہوئی۔ 1929 میں بلراج دت کے نام سے گاؤں “کھُرد” (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے اور 18 برس کی عمر میں تقسیم کے دوران بھارت منتقل ہوئے۔ تقسیم ہند کے المیوں نے ان کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔ بھارت کےریڈرز ڈائجسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ یہ خوفناک تھا۔ میں نے امبالہ کے ایک پناہ گزین کیمپ میں دیکھا کہ ایک طرف لوگ کسی لاش پر رو رہے تھے اور چند قدم کے فاصلے پر شادی کی رسومات ادا ہو رہی تھیں۔

ریڈف کو دیے گئے اپنی زندگی کے آخری انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کو تقسیم کے وقت ایک مسلمان دوست یعقوب نے بچایا۔ یعقوب ان کے والد کا دوست تھا جو جہلم میں رہتا تھا، اس نے دت خاندان کو محفوظ طریقے سے شہر پہنچایا۔

سنیل دت کے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب وہ محض پانچ برس کے تھے۔ تقسیم کے بعد وہ اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ بھارت آئے لیکن بچھڑ گئے۔ دوردرشن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ،میں کیمپوں میں اپنی ماں، بھائی اور بہن کو ڈھونڈتا رہا۔ مجھے لگا کہ شاید ان کا بھی وہی انجام ہوا جو ہزاروں دوسرے لوگوں کا ہوا تھا۔ بعد ازاں ایک رشتہ دار کی مدد سے وہ اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے دوبارہ ملے۔

برسوں بعد جب وہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان اپنے آبائی گاؤں واپس گئے تو لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ دیہاتیوں نے کہاکہ،یہ احترام ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے بزرگوں کے لیے ہے، جو ہمیشہ ہمیں عزت دیتے اور ہمارے مذہب کا احترام کرتے تھے۔

سنیل دت کو 1968 میں “پدم شری” ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ 2005 میں 75 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر اپنی یادگار زندگی اور جدوجہد کے باعث آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں