انٹارکٹکا کے برفیلے پانیوں سے آسٹریلیا پہنچنے والے “بادشاہ پینگوئن ” کو 20 دِن بعد سمندر میں واپس چھوڑ دیا گیا

انٹارکٹکا سے آسٹریلیا تک تیر کر آنے والے واحد بادشاہ پینگوئن کو 20 دِن کی نگہداشت کے بعد سمندر میں واپس چھوڑ دیا گیا۔ یہ پینگوئن یکم نومبر کو مغربی آسٹریلیا کے شہر ڈنمارک کے اوشین بیچ کے ریتلے ٹیلوں پر ملا تھا۔ یہ علاقہ انٹارکٹکا سے 3500 کلومیٹر دور شمال میں واقع ہے۔

پینگوئن بہت کمزور حالت میں ملا تھا

ڈنمارک کے مقامی وائلڈ لائف دیکھ بھال کرنے والے کیرول بڈالف کے مطابق یہ پینگوئن انتہائی کمزور حالت میں ملا تھا۔اِس پینگوئن کو جب پکڑا گیا تو اِس کا وزن محظ 21.5 کلوگرام تھا۔دیکھ بھال کے بعد اب اِس پینگوئن کا وزن 24.5 کلوگرام ہے۔ وائلڈ لائف ماہرین کے مطابق ایک نارمل پینگوئن کا وزن 45 کلوگرام ہوتا ہے۔
وائلڈ لائف دیکھ بھال کرنے والے کیرول بڈالف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
“مجھے شروع میں یقین نہیں تھا کہ یہ زندہ رہ پائے گا، کیونکہ یہ نہایت کمزور حالت میں ملا تھا۔”
اُنہوں نے مزید کہا کہ “یہ ایک ناقابلِ فراموش تجربہ تھا، میں اِس عظیم پینگوئن کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔”

بادشاہ پینگوئن ہوتا کیا ہے؟

بادشاہ پینگوئن دُنیا کی سب سے بڑی پینگوئن نسل ہے ۔ اِس نسل کی خاص خوبی یہ ہے کہ یہ خوراک کے حصول کے لیے طویل سفر کرتے ہیں۔ایک متوسط بادشاہ پینگوئن خوراک کے حصول کے لیے 1600 کلومیٹر تک کا سفر کرتا ہے۔
اِس پینگوئن نے 3500 کلومیٹر کا سفر کیا ہے، جو کہ حیران کن ہے۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کی محقق بلینڈا کینل کے مطابق آسٹریلیا میں بادشاہ پینگوئن کی موجودگی پہلے کبھی رپورٹ نہیں ہوئی ۔
یہ واقع نہ صرف بائیولوجیکل سائنسز کے لیے اہم ہے بلکہ آسٹریلیا کی وائلڈ لائف کی دیکھ بھال کے شعبے کے لیے بھی یادگار ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں