سمارٹ فون کا زیادہ استعمال ڈبل چِن کا باعث بن رہا ہے

جھکی ہوئی گردن کی عادت چہرے کی پٹھیاں کمزور کرتی ہے، جلد ڈھیلی پڑتی ہے اور جھریاں وقت سے پہلے نمودار ہو جاتی ہیں:تحقیق

ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا طویل استعمال، خصوصاً نیچے جھک کر مسلسل اسکرین پر نظریں جمائے رکھنا نہ صرف نظر اور نیند کو متاثر کرتا ہے بلکہ چہرے کی ساخت پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس عادت کے باعث گردن اور جبڑے کے عضلات کمزور پڑ جاتے ہیں جس سے جلد میں ڈھیلا پن آتا ہے اور چہرے کے نچلے حصے پر قبل از وقت جھریاں اور ڈبل ٹھوڑی نمودار ہونے لگتی ہے۔

ڈبل ٹھوڑی کی عمومی وجوہات میں وزن میں اضافہ، ہارمونی تبدیلیاں، عمر رسیدگی اور موروثی عوامل شامل ہوتے ہیں، لیکن حالیہ مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسمارٹ فون کا حد سے زیادہ استعمال بھی اس فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ موبائل فون کی اسکرین پر جھک کر دیکھنے سےخاص طور پر جب سر مسلسل آگے کی جانب جھکا ہو، تو زبان کے نیچے موجود تقریباً 20 باریک پٹھوں میں بھی ڈھیلا پن آجاتا ہے۔یہ طرزِ نشست نہ صرف گردن کے ریڑھی کی ہڈی کو متاثر کرتا ہے بلکہ منہ کے نچلے حصے کے ساتھ مل کر ٹھوڑی کے نیچے چربی جیسی ساخت پیدا کرتا ہے، جو دراصل پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے، نہ کہ چربی کی زیادتی یا صرف جلد کی لچک میں کمی سے۔
بچاؤ اور حل

ماہرین کا مشورہ ہے کہ بغیر کسی جراحی مداخلت کے اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔ صرف اتنا کریں کہ موبائل فون کو آنکھوں کی سطح تک اٹھا کر استعمال کریں تاکہ گردن اور جبڑے کے عضلات اپنی قدرتی حالت میں رہیں۔ اس کے ساتھ زبان کو منہ کے تالوسے لگا کر رکھنا اور گردن کے عضلات کو مضبوط بنانے والی ورزشیں کرنا بھی فائدہ مند ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ سادہ اقدامات 80 فیصد کیسز میں ڈبل ٹھوڑی کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ نیز، موبائل کا بے تحاشہ استعمال ایسی باریک جھریوں کو بھی جنم دیتا ہے جنہیں ماہرین "اسمارٹ فون جھریاں” کہتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں