سمارٹ ٹائم مینجمنٹ کیسے ممکن ہے؟

ٹائم مینجمنٹ میں ایک بہت اہم بات اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہے۔

ترجیحات کا تعین کرنے میں ” کیوں؟ ” بہت اہمیت کا حامل ہے

1. اپنے آپ سے یہ سوال کہ میں یہ کام کیوں کرنا چاہتا ہوں؟
2. مجھے اس کام کے کیا فائدے حاصل ہوں گے اور میں اس کام کے زریعے کون سے نتائج حاصل کرنا چاہتا ہوں؟
3.مجھے اس کام کی کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی؟
4. پھر کاموں میں فرق کرنا سیکھنا ضروری ہے۔ کچھ کام ہماری ذمہ داری ہیں ہمارے فرائض میں شامل ہیں۔ان پہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا یہ ترجیحات میں سب سے پہلے ہیں۔
5.ضرورت اور شوق میں فرق سمجھنا اس کا ادراک رکھنا ضروری ہے۔ ضرورت اور شوق کو الگ الگ رکھیں۔
6.اس کے بعد کچھ کام زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کچھ کم۔ کچھ کے بغیر کچھ وقت کے لیے گزارا چل سکتا ہے۔

جب ہم ایک بار اپنے آپ سے ان تمام سوالوں کے "اطمینان بخش” جواب حاصل کر لیتے ہیں تو ہمارا ذہن اپنے کام کے لیے بالکل کلئیر ہو جاتا ہے اور اسی طرح کی توانائی پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں اور بدلتی رہنی چاہیے۔ ساری زندگی کسی ایک سیٹ پیٹرن پہ نہیں گزاری جا سکتی۔

کسی وقت میں صرف ہماری صحت اہم ہوتی، کسی وقت میں گھر اور اولاد کو ہمارے توجہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے،کبھی گھر کے بزرگوں کا خیال رکھنا ترجیح بن جاتی ہے کہ ان کی صحت غیر معمولی توجہ کی متقاضی ہوتی ہے۔

مرد حضرات کے لیے کمانا اور گھر کے اخراجات پورے کرنا عمر بھر کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح خواتین کے لیے انکا گھر اور اولاد کی تربیت پہ توجہ ان کی عمر بھر کی ذمہ داری ہے۔

ہم ضرورت کے تحت اپنی اپنی زمہ داریوں میں کچھ ردو بدل کر سکتے ہیں لیکن غیر ضروری طور پہ خود پہ اضافی بوجھ لادنا یا اپنی زمہ داریوں سے روگردانی کر کے غیر ضروری کاموں میں وقت ضائع کرنا ہماری زندگی کے تانے بانے میں کئی جھول ڈال دیتا ہے۔

ترجیحات کے بعد منصوبہ بندی کا مرحلہ
جب آپ نے اپنی ترجیحات سیٹ کر لیں کہ آپ نے کیا اور کیوں کرنا ہے تو اب آپ کا اگلا پڑاو منصوبہ بندی کا ہے۔ اپنے کام کی جامع منصوبہ بندی کرنا۔
منصوبہ بندی کو سادہ الفاظ میں کاموں کی ترتیب کہہ سکتے ہیں۔
ہم اپنے کاموں کو کئی چھوٹے بڑے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں کچھ کام لمبے عرصے کے ہوتے ہیں، کچھ درمیانی مدت کے کچھ روزمرّہ کے کام ہیں۔
اسی حساب سے اپنی to-do لسٹ بنا لیں۔
یاد رکھیں اچھے منصوبہ ساز اپنا کام تین بار سر انجام دیتے ہیں۔
ایک بار دماغ میں جس کو ویژولائزیشن(visualisation) کہتے ہیں۔
دوسری بار کاغذ پہ اس کو عکس کیا جاسکتا ہے یعنی تحریر میں لانا۔
تیسری بار حقیقت میں۔
ان پہ باری باری بات کرتے ہیں۔

ذہن میں سوچنا (Visualisation)
یہ ٹائم مینجمنٹ کا سب سے کارآمد گْر ہے ۔ذاتی طور پہ آپ کو بتاؤں تو یہ میرا گرو ٹپ ہے اور میری ٹائم مینجمنٹ کا سب سے بڑا راز بھی۔
آپ نے جو بھی کام کرنا ہے ایک بار اس کو اپنے دماغ میں مکمل طور پہ کر لیں جیسے ڈے ڈریم ہوتا ہے اس طرح۔ مثلاً

1. آپ کو کہیں جانا ہے ،آپ کو کیسے تیار ہونا ہے ،کیا پہننا ہے ،کیا چیزیں ساتھ رکھنی ہیں؟ گھر سے نکلنا ہے، کس سڑک سے جانا ہے، کہاں پہنچنا ہے کیا بات کرنی ہے؟ تفصیلاً سوچ لیں۔
2. آپکو کل فلاں نئی ڈش بنانی ہے۔ ایک بار مکمل سیاق و سباق سے دماغ میں پکا لیں۔ پہلے چاول دھو کے بھگو دیے، پھر پیاز کاٹے ،مصالحہ بنایا، گوشت بھونا، کتنا ٹماٹر ،کتنا لہسن ،ادرک پھر چاول ابالے ،تہہ لگائی، اوپر دھنیا پودینہ لیموں کی کاشیں ،بگھارے پیاز اوردم لگا دیا۔
3. کل شادی میں جانا ہے یا میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے۔ فلاں ڈریس ،فلاں جوتے، فلاں جیولری، ایسا میک اپ پورا پلان خیالات میں بنا لیں۔
4. سیر و تفریح پہ جا رہے ہیں۔ کیا کیا سامان رکھنا ہے ،دماغ میں مکمل فہرست سوچ لیں اور دماغ ہی میں سفر پہ نکل پڑیں۔ آپ کو یاد آنا شروع ہو جائے گا کہ مجھے کس کس چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

میرا یہ حال ہے کہ جس جگہ جانا، وہاں ایک ہفتہ پہلے پہنچ چکی ہوتی ہوں ۔ہم عمرے پہ جا رہے تھے ۔میں دس دن پہلے سے اپنے میاں کو کہہ رہی تھی کہ میں ذہنی طور پہ اس وقت مکہ اور مدینہ میں ہوں۔
نامور ادیب ممتاز مفتی اپنی والدہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جب انہیں کہیں جانا ہوتا تھا تو وہ دماغی طور پہ ایک ہفتہ قبل سامان سمیت سٹیشن پہ ہوتی تھیں ۔

غرض یہ آپ کو جو بھی کرنا ہے پہلے اس کو ایک بار دماغ میں مکمل تفصیل کے ساتھ سر انجام دے لیں۔
اسکا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب آپ نے اس سب پراسس کو ایک بار تفصیل سے سوچ لیا تو یہ آپ کے دماغ میں فیڈ ہو گیا۔ اس کے بعد دماغ آٹو پہ لگ جاتا ہے۔ جب وہ کام کرنے کا وقت آتا ہے تو دماغ اپنی فیڈنگ کے مطابق فوری فوری حکم نامے ارسال کرتا ہے کہ کیا کام کس ترتیب سے کرنا ہے ۔اس طرح بنا وقت ضائع ہوئے بغیر کسی گیپ کے وہ کام آسانی سےہموار طریقے سے( smoothly) ہوتا چلا جاتا ہے۔

اس سے نا صرف ٹائم سیونگ یعنی وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ کام میں درستی (accuracy) بھی پیدا ہوتی ہے۔
اس کے برخلاف اگر آپ بنا سوچے سمجھے یا پلان کیے نکل کھڑے ہوں یا اچانک کوئی کام شروع کر دیں تو دماغ منتشر رہتا ہے ۔اسے اسی وقت جانچ پڑتال کر کے فیصلے بھی لینے ہیں اور کام بھی کرنا ہے۔

فرض کریں، کوئی کام اچانک بھی کرنا پڑ جائے تو چند لمحے رک جائیں۔ ایک دو گہری سانسیں لیں ۔زیادہ وقت نہیں بھی ہے تو بھی دو تین منٹ اس کام کو پہلے سوچ لیں۔
(جاری ہے )

(جویریہ ساجد کا تعلق رحیم یار کے ایک معروف علمی گھرانے سے ہے . انہوں نے اکنامکس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اسلامیہ یونیورسٹی میں پڑھاتی بھی رہی ہیں۔ وہ معروف لکھاری، بلاگر اور ولاگر ہیں ۔جویریہ ساجد اپنے موضوع پر پوری ریسرچ کر کے قلم اٹھاتی ہیں، اسی وجہ سے سوشل میڈیا فورمز پر ان کی تحریروں کو بھرپور عوامی پزیرائی ملتی ہے۔)

Author

اپنا تبصرہ لکھیں