ازبک ادب بڑا زرخیر، بھرپور اور متنوع ہے۔ ازبک لوک کہانیوں کی بھی بڑی وسیع ورائٹی ہے، اس میں بچوں کے لئے بھی بہت سی لوک کہانیاں ہیں جو آج بھی ازبک شہروں اور دیہات میں ازبک مائیں اور بزرگ اپنے بچوں کو سناتے ہیں۔ “شم بولا”یا شرارتی لڑکا بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے۔
اس کے مصنف غفار غلام کا مکمل نام غفور غُلم محمد اوغلی (G’afur G’ulom Muhammad og’li)تھا۔ یہ بیسویں صدی کے اہم ازبک ادیب تھے، سوویت عہد میں ان کی کئی کتابیں اور کہانیاں چھپیں اور مقبول ہوئیں۔ وہ شاعر، افسانہ نگار، ڈراما نویس، مترجم، صحافی اور سویت دور کے معروف دانشور تھے۔ انہوں نے جدید ازبک نثر کو نئی شناخت دی اور روسی ادب کے مشہور مصنفین (مثلاً پشکن، گوگول، ماکسِم گورکی) کا ازبک زبان میں ترجمہ کیا۔ غفور غلام محمد کو کئی اعلیٰ اعزاز جیسے آرڈر آف لینن بھی ملا۔ شم بولا ان کی مقبول کہانی تھی جسے عوامی پزیرائی ملی۔ اس طرح کے قصے البتہ قدیم ازبک داستانوں میں ملتے ہیں۔ یہ کہانی پہلی بار 1930 کی دہائی میں شائع ہوئی، اور تب سے ازبک ادبیات میں بچوں اور نوجوانوں کے ادب کا شاہکار مانی جاتی ہے۔1977 میں ازبکستان میں اسی نام سے ایک فیچر فلم بھی بنائی گئی، جو سویت یونین میں بھی بہت مقبول ہوئی۔

کہانی میں مرکزی کردار قوراویچ (Qoravoy) ہے، جو ایک یتیم لڑکا ہے جو مختلف گھروں میں رہتا ہے، اور اپنی ذہانت، شرارت، اور فطری آزادی سے ایک الگ پہچان بناتا ہے۔ یہ کہانی صرف بچوں کی شرارت پر مبنی نہیں، بلکہ اس میں یتیمی، آزادی، سماجی ناانصافی اور زندگی کی سچائیوں کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔شم بولا ادبی کلاسک کا درجہ رکھتی ہے اور آج بھی اسکولوں، جامعات اور ادبی حلقوں میں اس پر بحث کی جاتی ہے۔
مرکزی کردار قوراویچ ایک تیز ذہن کا شرارتی مگر معصوم بچہ ہے۔ وہ مختلف سیچوئشنز میں پھنس جاتا ہے، کبھی اس سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے اور کبی صورتحال اس کے خلاف چلی جاتی ہے، جیسے بازار میں کوئی چور چوری کر کے اس پر الزام تھوپ دیتا ہے یا وہ اپنے عزیز کے گھر ان کے قیمتی پالتو پرندوں کو غلط خوراک کھلا کر نقصان پہنچا دیتا ہے، کہیں پر وہ انڈے اور مکھن کھسکانے کی کوشش میں ماں کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے معصوم جھوٹ بول کر نکلنے کی کوشش کرتا مگر ہر بار ناکام رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا بچہ ہے جس میں دیہی ازبک معاشرے یا چھوٹے شہروں، قصبات کے گھرانوں کو اپنے بچے کی جھلک ملتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ کہانی مقبول ہوئی اور اسے لوک کہانی کا درجہ مل گیا۔