سمندر کی گہرائیوں میں ایک ایسا حیرت انگیز جاندار پایا جاتا ہے جو بظاہر عام کھیرے سے مشابہت رکھتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک سمندری جانور ہے۔ اسے سمندری کھیرا (Sea Cucumber) کہا جاتا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام ہولوتھورائیڈیا (Holothuroidea) ہے۔ دراصل یہ کسی ایک نوع کا نام نہیں بلکہ سمندری کھیرے کی مختلف اقسام پر مشتمل ایک حیاتیاتی جماعت ہے۔ اس کا تعلق ایکائنوڈرماٹا (Echinodermata) نامی گروہ سے ہے، جس میں سمندری ستارے اور سمندری خارپشت بھی شامل ہیں۔
دنیا کے تقریباً تمام بڑے سمندروں میں سمندری کھیرے کی ایک ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ بحرہند، بحرالکاہل اور بحرِ اوقیانوس کے ساحلی علاقوں سے لے کر ہزاروں میٹر گہرے پانی تک موجود ہیں۔ ان کا جسم نرم، لمبوترا اور لچکدار ہوتا ہے، جبکہ مختلف اقسام کا رنگ سیاہ، بھورا، سرخ، زرد یا سبز ہو سکتا ہے۔ بعض اقسام چند سینٹی میٹر جبکہ کچھ ایک میٹر سے زیادہ لمبی ہوتی ہیں۔
سمندری کھیرے کی سب سے حیرت انگیز خصوصیت اپنے جسم کے بعض اندرونی اعضا دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ کچھ اقسام شکاری جانوروں سے بچنے کے لیے اپنے اندرونی اعضا کا حصہ جسم سے خارج کر دیتی ہیں۔ اس دفاعی عمل کو سائنسی زبان میں ایویسریشن (Evisceration) کہا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ جانور وقت گزرنے کے ساتھ اپنے کھوئے ہوئے اعضا دوبارہ بنا سکتا ہے۔ بعض اقسام حملہ آور کو روکنے کے لیے چپچپے دھاگوں جیسے مادے بھی خارج کرتی ہیں۔ یہی منفرد صلاحیتیں اسے حیاتیاتی تحقیق کا اہم موضوع بناتی ہیں۔
اس جانور کا سانس لینے کا نظام بھی غیر معمولی ہے۔ اس کی بہت سی اقسام جسم کے پچھلے حصے سے پانی اندر لے کر مخصوص اندرونی ساختوں، جنہیں ریسپائریٹری ٹریز (Respiratory Trees) کہا جاتا ہے، کے ذریعے آکسیجن حاصل کرتی ہیں۔ سمندری کھیرا عموماً آہستہ حرکت کرتا ہے اور سمندر کی تہہ میں موجود ریت، نامیاتی ذرات اور مردہ جانداروں کی باقیات سے خوراک حاصل کرتا ہے۔
سمندری ماحول میں اس کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ ریت اور سمندری تہہ میں موجود نامیاتی مادوں کو استعمال کرکے غذائی اجزا کی گردش میں مدد دیتا ہے۔ اسی وجہ سے سائنس دان اسے سمندر کی تہہ کا قدرتی صفائی کرنے والا جاندار بھی قرار دیتے ہیں۔ اس کا کردار کسی حد تک زمین میں رہنے والے کیچوؤں سے ملتا جلتا ہے، جو مٹی میں نامیاتی مادوں کی گردش میں حصہ لیتے ہیں۔
طبی تحقیق میں بھی سمندری کھیرے کو اہمیت حاصل ہے۔ اس کے جسم میں کولیجن، پروٹین اور مختلف حیاتیاتی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ سائنس دان ان مادوں کے ممکنہ جراثیم مخالف، سوزش کم کرنے والے اور دیگر حیاتیاتی اثرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ تاہم ان کے طبی فوائد سے متعلق زیادہ تر تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور انسانوں میں بیماریوں کے علاج کے لیے ان کی افادیت ثابت نہیں ہوئی۔
چین، جاپان اور ایشیا کے بعض دوسرے ممالک میں سمندری کھیرے کی مختلف اقسام بطور غذا استعمال ہوتی ہیں۔ خشک سمندری کھیرے کو بین الاقوامی تجارت میں بیش ڈی میر (Bêche-de-mer) کہا جاتا ہے۔ بعض قیمتی اقسام کی عالمی منڈی میں خاصی مانگ ہے، جس کے باعث ان کا کاروباری شکار بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم ضرورت سے زیادہ شکار اور غیر قانونی تجارت کی وجہ سے بعض اقسام کی آبادی متاثر ہوئی ہے۔ ان کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر تجارتی پابندیاں اور نگرانی کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
سمندری کھیرا قدرت کے ان منفرد جانداروں میں شامل ہے جو بظاہر سادہ ہونے کے باوجود غیر معمولی حیاتیاتی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ اپنے اندرونی اعضا دوبارہ پیدا کرنے، منفرد دفاعی نظام اور سمندری ماحول کو متوازن رکھنے میں کردار کے باعث یہ جانور سائنس دانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس پر جاری تحقیقات مستقبل میں جسمانی اعضا کی دوبارہ افزائش اور سمندری حیاتیات کے کئی اہم راز سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔