برطانوی فضائی اڈے پر مشتبہ واقعہ، ایران کی پاسدارانِ انقلاب پر انگلیاں اٹھ گئیں

برطانیہ نے جنوب مغربی انگلینڈ میں امریکی جنگی طیاروں کے زیرِ استعمال ایک اہم فضائی اڈے پر پیش آنے والے مشتبہ واقعے کا ذمہ دار ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو ٹھہرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تہران نے اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پارلیمان کو بتایا کہ حکومتی جائزے میں یہ امکان سامنے آیا ہے کہ رائل ایئر فورس کے فیئر فورڈ اڈے پر پیش آنے والا واقعہ ایران میں مربوط کیا گیا تھا اور غالب امکان ہے کہ اس کے پیچھے اسلامی پاسدارانِ انقلاب کی قیادت تھی۔

یہ واقعہ 27 ستمبر کو پیش آیا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی نوعیت اور اس میں ملوث افراد کے بارے میں مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔ واقعے کے بعد امریکا نے گزشتہ ہفتے فیئر فورڈ اڈے سے اپنے تمام بی ون بمبار طیارے واپس بلا لیے۔ یہ طیارے ایران کے خلاف جنگ کے دوران اس اڈے سے آپریشنز کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔

برطانوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت اپنی سرزمین پر ایسے خطرات کو برداشت نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق، برطانیہ مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ایرانی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرے گا اور ان کی مالی معاونت روکنے کے لیے دستیاب قانونی اختیارات استعمال کیے جائیں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی مبینہ دشمنانہ سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم، فیئر فورڈ اڈے کے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا دعویٰ برطانوی حکومت کے جائزے پر مبنی ہے، جبکہ ایران اس الزام کی تردید کر چکا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں