مسلسل 25 منٹ بیٹھنا صحت کے لیے نقصان دہ؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

کیا آپ کی کرسی پر بیٹھے رہنے کی عادت آپ کے دل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟ نئی تحقیق کے مطابق، طویل وقت تک مسلسل بیٹھنے سے پٹھوں کی سرگرمی کم ہونے لگتی ہے، جو طویل مدت میں صحت کے مسائل سے جڑی ہو سکتی ہے۔

آسٹریلیا کی سوئن برن یونیورسٹی کے محققین نے سات ہزار سے زائد نشستوں کے دوران لوگوں کے پٹھوں کی سرگرمی کا جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے خاص سینسرز سے لیس لباس استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے روزمرہ زندگی میں بیٹھنے کے دوران پٹھوں کی حرکت ریکارڈ کی گئی۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ جب لوگ مسلسل 25 منٹ سے زیادہ بیٹھے رہتے ہیں تو ان کے پٹھے نسبتاً کم سرگرم ہو جاتے ہیں۔ اس سے خون کی روانی اور جسم میں گلوکوز کے استعمال پر اثر پڑ سکتا ہے، جو دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس جیسے مسائل سے منسلک ہیں۔

تاہم، ہر طرح سے بیٹھنا یکساں نہیں۔ کام کرتے ہوئے ہاتھ پاؤں ہلانا، گفتگو کے دوران حرکت کرنا اور جسم کی پوزیشن بدلتے رہنا، بالکل ساکن بیٹھنے کے مقابلے میں بہتر ہو سکتا ہے۔

محققین کے مطابق، بیٹھنے کے طویل دورانیے کو مختصر سرگرمیوں سے توڑنا ایک آسان حل ہے۔ پانی لینے کے لیے اٹھنا، چند قدم چلنا یا کچھ دیر کھڑے ہو جانا روزمرہ معمول میں حرکت بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق میں دی گئی ایک مثال کے مطابق، اگر کوئی شخص روزانہ دس گھنٹے بیٹھتا ہے اور ہر 25 منٹ بعد سرگرمی کے لیے وقفہ لیتا ہے تو بیٹھنے کے دوران پٹھوں کی سرگرمی میں مجموعی طور پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے برابر اضافہ ہو سکتا ہے۔

یاد رکھیں، تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ 25 منٹ بیٹھتے ہی دل کی بیماری کا خطرہ اچانک بڑھ جاتا ہے، بلکہ یہ مسلسل بیٹھنے کو توڑنے اور روزمرہ زندگی میں حرکت بڑھانے کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں