قدرت کی حیرت انگیز دنیا میں بعض جاندار ایسی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں جو انسان کو حیران کر دیتی ہیں۔ ان میں انڈین سالمن نامی مچھلی بھی شامل ہے، جو اپنی زندگی کے دوران نر سے مادہ بن سکتی ہے اور سمندر کے نمکین پانی کے ساتھ ساتھ دریاؤں کے میٹھے پانی میں بھی زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین سالمن کے نام سے مشہور یہ مچھلی حقیقت میں سالمن کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتی۔
انڈین سالمن کا سائنسی نام Eleutheronema tetradactylum ہے، جبکہ انگریزی میں اسے فور فنگر تھریڈفن کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق مچھلیوں کے خاندان Polynemidae سے ہے، جبکہ حقیقی سالمن کا تعلق Salmonidae خاندان سے ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے بعض ساحلی علاقوں میں اسے راوس یا راواس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کا جسم چاندی کی طرح چمکدار ہوتا ہے اور اس کے سینے کے قریب موجود پنکھوں سے دھاگوں جیسی چار باریک ساختیں نکلتی ہیں، جن کی وجہ سے اسے فور فنگر تھریڈفن کہا جاتا ہے۔
اس مچھلی کی سب سے حیرت انگیز خصوصیت اس کی جنس تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ مچھلی ابتدائی تولیدی زندگی میں نر ہوتی ہے، لیکن عمر اور جسمانی جسامت بڑھنے کے ساتھ بعض نر مچھلیاں مادہ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اس قدرتی عمل کو سائنسی زبان میں Protandrous Hermaphroditism کہا جاتا ہے۔ اس دوران مچھلی کے تولیدی نظام میں حقیقی حیاتیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جن کے نتیجے میں وہ مادہ کی حیثیت سے افزائش نسل کے قابل ہو سکتی ہے۔ تاہم اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ یہ مچھلی معمول کے مطابق مادہ سے دوبارہ نر بھی بن جاتی ہے۔
سنہ 2017 میں سائنسی جریدے جرنل آف فش بائیولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھارتی ساحلوں کے آٹھ مقامات سے حاصل کردہ 480 انڈین سالمن مچھلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے بعض مچھلیوں میں تقریباً 28 سینٹی میٹر لمبائی کے بعد جنس کی تبدیلی کے آثار دریافت کیے۔ سنہ 2025 کی ایک دوسری تحقیق نے بھی اس نوع میں نر سے مادہ بننے کے عمل کی تصدیق کی۔ ماہرین کے مطابق بعض مچھلیوں میں جنس کی تبدیلی افزائش نسل کی ایک قدرتی حکمت عملی ہوتی ہے، کیونکہ بڑی مادہ مچھلی زیادہ انڈے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔
انڈین سالمن کی ایک اور اہم خصوصیت مختلف نمکیات والے پانی میں رہنے کی صلاحیت ہے۔ یہ مچھلی سمندری پانی، دریاؤں کے دہانوں پر موجود نیم نمکین پانی اور بعض میٹھے پانی کے علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس کا جسم پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک مخصوص حیاتیاتی نظام استعمال کرتا ہے، جسے Osmoregulation کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں مچھلی کے گلپھڑے اور گردے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی صلاحیت اسے مختلف آبی ماحول میں زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔
انڈین سالمن کے بارے میں ایک دلچسپ سوال یہ بھی ہے کہ جب یہ حقیقی سالمن نہیں تو اسے سالمن کیوں کہا جاتا ہے؟ دراصل انڈین سالمن اس کا رائج تجارتی نام ہے۔ بعض علاقوں میں اس کے ذائقے اور گوشت کی خصوصیات کو حقیقی سالمن سے ملتا جلتا سمجھا جاتا ہے، تاہم دونوں الگ خاندانوں کی مچھلیاں ہیں۔ حقیقی سالمن کا گوشت عموماً گلابی یا نارنجی ہوتا ہے، جبکہ انڈین سالمن کا گوشت زیادہ تر سفید، کریمی یا ہلکی گلابی جھلک لیے ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ نسبتاً ہلکا اور گوشت نرم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ جنوبی ایشیا میں کھانے کے لیے پسند کی جاتی ہے۔
یہ مچھلی بحرِ ہند اور مغربی بحرالکاہل کے وسیع ساحلی علاقوں میں پائی جاتی ہے، جن میں پاکستان، بھارت، سری لنکا، خلیج فارس، جنوب مشرقی ایشیا اور شمالی آسٹریلیا کے بعض علاقے شامل ہیں۔ یہ بنیادی طور پر گوشت خور مچھلی ہے اور چھوٹی مچھلیوں، جھینگوں اور دوسرے آبی جانداروں کو خوراک بناتی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں اس کی تجارتی اہمیت بھی نمایاں ہے۔
ماہرین کے نزدیک انڈین سالمن کی جنس تبدیل کرنے کی صلاحیت اس کے تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کے لیے بھی اہم ہے۔ چونکہ بعض نر مچھلیاں بڑی ہونے کے بعد مادہ بنتی ہیں، اس لیے بڑی جسامت کی مچھلیوں کا ضرورت سے زیادہ شکار افزائش نسل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
انڈین سالمن قدرت کے حیرت انگیز حیاتیاتی نظام کی ایک منفرد مثال ہے۔ ایک ایسی مچھلی جو نر سے مادہ بن سکتی ہے، سمندر اور دریاؤں کے مختلف ماحول میں رہ سکتی ہے اور جس کا مشہور تجارتی نام اس کی اصل سائنسی شناخت سے مختلف ہے۔ اس کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سمندروں اور دریاؤں کی دنیا میں آج بھی ایسے بے شمار راز موجود ہیں جنہیں سائنس بتدریج دریافت کر رہی ہے۔