ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے جمعرات کو ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں پر اپنے پہلے ردِعمل میں مظاہرین کا شکریہ ادا کیا ہے اور انٹرنیٹ کی بندش، مظاہرین پر تشدد اور ان کی آواز دبانے کے اقدامات پر سخت تنقید کی ہے۔
رضا پہلوی، جنھوں نے اس سے قبل ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف احتجاج کی اپیل کی تھی، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی عوام بڑی تعداد میں آزادی کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جس کے جواب میں ایرانی حکومت نے ذرائع مواصلات مکمل طور پر بند کر دیے ہیں، انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا ہے، لینڈ لائن فونز بند کیے گئے ہیں اور ممکن ہے کہ سیٹلائٹ سگنلز کو بھی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
رضا پہلوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر ان کے شکر گزار ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کے عزم کا ایک بار پھر اظہار کیا ہے۔
انہوں نے مغربی ممالک کے رہنماؤں سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی قائدین بھی اپنی خاموشی ختم کریں اور ایرانی عوام کی حمایت میں کھل کر سامنے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ دستیاب تکنیکی، مالی اور سفارتی وسائل استعمال کریں تاکہ ایرانی عوام سے رابطہ بحال ہو، ان کی آواز سنی جا سکے اور ان کے مطالبات کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
رضا پہلوی نے مزید کہا کہ میرے بہادر ہم وطنوں کی آواز کو خاموش نہ ہونے دیا جائے