‘مغلوں کے خلاف منفی بیانیے کو سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے’، دی اکانومسٹ کا بے جے پی کی طرزِ سیاست پر تجزیہ

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں برصغیر کی مغل سلطنت اور موجودہ ہندو قوم پرست سیاست کے درمیان تعلق پر ایک دلچسپ اور طنزیہ تجزیہ پیش کیا ہے۔ ‘مغلوں نے ہمارے لیے آخر کیا کیا؟’ کے عنوان سے شائع ہونے والے اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ‘بھارت کی سب سے بڑی مسلم سلطنت نے اس کی سب سے طاقتور ہندو جماعت کو کیسے مضبوط کیا۔’

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اکثر ‘بارہ سو سالہ غلامی’ کا ذکر کرتے ہیں، جس میں مسلمان حکمرانوں اور بعد میں برطانوی دور کو شامل کیا جاتا ہے۔ مضمون کے مطابق اس سیاسی بیانیے میں مغل سلطنت کو ایک مرکزی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جسے ہندو قوم پرست حلقے تاریخی ‘غلامی’ کی نمائندگی سمجھتے ہیں۔

دی اکانومسٹ کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ جن مغلوں کو بی جے پی اپنی سیاست میں تنقید کا نشانہ بناتی ہے، انہی مغلوں نے بالواسطہ طور پر ہندو قوم پرستی اور بی جے پی جیسی طاقتور سیاسی قوت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ مضمون میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ مغل سلطنت نے بھارت کو صرف تاج محل، اردو زبان، موسیقی، فنِ تعمیر، کھانے اور فنونِ لطیفہ ہی نہیں دیے بلکہ ایک ایسا ‘تاریخی دشمن’ بھی دیا جسے موجودہ سیاست میں استعمال کر کے ہندو ووٹ کو متحد کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں مغل دور کی ثقافتی اور انتظامی خدمات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جریدے کے مطابق مغل سلطنت نے برصغیر میں مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی، فنون اور ریاستی نظم و نسق کے شعبوں میں گہرے اثرات چھوڑے، تاہم موجودہ بھارتی سیاست میں مغلوں کو زیادہ تر ایک حملہ آور طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

دی اکانومسٹ نے بی جے پی کے تاریخی بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی تاریخ کو موجودہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مضمون کے مطابق مغلوں کی یاد اور ان کے خلاف تاریخی غصے کو ہندو قوم پرستی کے فروغ اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

دی اکانومسٹ کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میں تاریخ، مغل دور اور قومی شناخت سے متعلق مباحث دوبارہ شدت اختیار کر رہے ہیں، اور مختلف سیاسی جماعتیں تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنا رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں