عورت مارچ کے پٹے ہوئے مطالبے اور ہمارا نقطہ نظر

آٹھ مارچ آ گیا اور عورت مارچ کے حامیوں کی وہی وہ پٹی ہوئی باتیں، وہ پرانی بیکار بحثیں ۔
میرا اعتراض یہ ہے کہ عورت کے تمام مسائل جینڈر بیسڈ ہیں ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ سیچوئشن ہر جگہ مرد بمقابلہ عورت کی ہے۔ایسا نہیں ۔ بہت جگہوں پر عورت بمقابلہ عورت کا منظرنامہ ہے۔ گھر میں پہلے سے رہنے والی عورت بمقابلہ گھر میں نئی آنے والی عورت۔
میرا جسم میری مرضی لینے والی ذرا ہمت کر کے ایک بار یہ تو کہیں کہ پلیز عورت ہی دوسری عورت کا احترام کرے۔
نوے فیصد ڈومیسٹک وائلنس کے پیچھے اس گھر کی دوسری عورتوں کا کردار ہوتا ہے،ساس،نند، دیورانی یا چچی ساس،پھوپھی ساس وغیرہ کی شکل میں۔ جبکہ عورت کو شادی کے بعد سسرال میں جس ذہنی ٹارچر کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ سو فی صد کسی دوسری عورت کا پیدا کردہ ہے۔ آخری تجزیے میں عورت ہی عورت کی دشمن بن جاتی ہے۔
مردوں کو بے قصور ٹھہرانا ہرگز مقصد نہیں۔ان کا بھی قصور ہے مگر جب ایک طرف ان کی جنت، پچیس تیس سال سے اسے ہر بات سکھانے سمجھانے اور سچ جھوٹ کی تمیز کرانے والی ماں اور بڑی بہنیں ہوں اور دوسری طرف اس کی زندگی میں چند ماہ قبل آنے والی ایک اجنبی عورت جس کے بارے میں ابھی وہ ٹھیک سے جانتا ہی نہیں،توایسے میں ترازو ظاہر ہے ماں بہنوں کی طرف جھکے گا،وہ انہیں ہی سچا جانے گا۔ تب ایک غیر معمولی فراست رکھنے والا ہی درست فیصلے کر پائے گا ۔اور ہم جانتے ہیں کہ اکثریت اوسط ذہن کی مالک ہوتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب خواتین مارچ کی عورتیں اس ایشو کو صرف جینڈر بیسڈ بنا کر صرف مرد کو ٹارگٹ کرتی ہیں تو بے شمار گھروں میں موجود یہ حقیقی ولن یا ویمپ کردار نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل جیسے واعظ بھی مقبول بیانیہ لے کر مردوں ہی کو مطعون کرتے ہیں۔ وہ بھی ساس،نند وغیرہ کو نہیں سمجھاتے کہ کچھ حیا کرو اور نئی آئی بچی کا اپنی بیٹی بہن کی طرح خیال کرو۔

میں ورکنگ ویمن کی مشکلات ،بازار جاتی خواتین کے ساتھ ہراسمنٹ ،بری نظر وغیرہ کے مسائل سے واقف ہوں اور اس بارے میں سخت ترین قوانین اپنانے کا حامی ہوں۔ راہ چلتی عورت پر آوازے کسنے، کندھا مارنے یا ٹچ کرنے والے مردوں کو نشان عبرت بنا دینے کا حامی۔ ان بدبختوں کو کوڑے مارے جائیں۔ جیلوں میں چکی پسوائی جائے۔ یہی دفاتر میں ہراسمنٹ پر ہو۔
خاوندوں کو اپنی بیویوں سے بہت نرم، بھلاسلوک اپنانا چاہئے۔ یہ ہمیں سنت مبارکہ بھی سکھاتی ہے۔
بیوی محبت، احترام اور تکریم کی مستحق ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر اس سے جسمانی تعلق قائم نہ کیا جائے اور اس کی تھکن،سٹریس، پریشانیوں وغیرہ کو ملحوظ رکھا جائے۔ کتنے بچے پیدا کئے جائیں،کتنا گیپ ہو ، یہ سب بیوی سے مشاورت اور اس کی مرضی سے ہو۔
جو عورت کے حقیقی مسائل ہیں، وہاں پر ہمیں عورت مارچ والوں سے کوئی اعتراض نہیں،ہم ان کے سلوگنز کو سپورٹ کریں گے کہ کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ، بدسلوکی یا ہراسمنٹ نہ ہو، اس کا خاوند ازدواجی تعلقات میں اس کی فزیکل کنڈیشن، موڈ، مرضی وغیرہ کو ملحوظ رکھے۔ یہی اخلاقیات اور یہی شائستگی ہے۔ تاہم ظاہر ہے بیویوں کو بھی اپنے مردوں کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں مناسب حد تک اکاموڈیٹ کریں۔ یہ بطور پارٹنر ان کی ذمہ داری ہے، مگر ایسا کرنے پر انہیں رب عظیم کی جانب سے بے شمار اجر کی نوید اور خبر بھی سنائی گئی ۔ اس جائز اور قانونی رشتے میں وہ جسمانی تعلق جو دونوں کے لئے فرحت بخش اورلذت کا باعث بنے ، اس پر بھی بہت سا اجر بتایا گیا ۔
یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان پر کالم لکھنا بھی اچھا نہیں لگتا۔ یہ کامن سینس کی باتیں ہیں اور پارٹنرز کو نرمی، پیار ، دوسرے کے لحاظ اور مشاورت کے ساتھ انہیں ہینڈل کرنا چاہیے۔
۔ تاہم اپنا جسم اپنی مرضی سے کسی کو سونپنے کی بات سے شدید اختلاف ہے۔ ایک مسلمان عورت اللہ کے حکم کی پابند ہے اور اس پر وہ پابندیاں عائد ہوں گی جو رب نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعے ہم تک پہنچائیں۔ اس کا جسم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ شریعت کی دھجیاں اڑا دے،مشرقی اخلاقیات کی بھی۔
اس حق کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ ہاں وہ اسلام سے دامن چھڑا چکی ہے تو پھر الگ معاملہ ہے،تب اس پر شرعی پابندیاں عائد نہیں ہوں گی۔ البتہ ملکی قوانین اس پر منطبق ہوں گے،ناجائز جسمانی تعلق اور فحاشی وغیرہ پر۔
اسی طرح جب وہ سماجی ضابطے، ہماری مشرقی اخلاقی قدروں کو پامال کرے گی تو پھر سماج کی نفرت بھی اس کے حصے میں آئے گی۔ پھر اس کا شکوہ کرنا نہیں بنتا۔
اس لئے پاکستانی بی بیو اگر خدانخواستہ آپ میں سے کوئی خدائی قوانین کا احترام نہیں کرے گی، عزتوں کو پامال کرے گی تو پھر ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ نفرت، تحقیر کا بھی نشانہ بنیں گی۔ آپ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ اپنا جسم جسے مرضی سونپ دیں۔ یہ جسم وجاں اللہ کی امانت ہے۔
یہ حق مرد کو بھی حاصل نہیں۔ زنا کرنے پر ملکی قوانین میں بھی سخت سزائیں ہیں اور شریعت نے ایسے بدکار مردوں کے لئے آخرت میں خوفناک اور بھیانک سزائوں کی وعید سنائی ہے۔ جس طرح مرد کو بھی کوئی رعایت نہیں، ویسے عورت کو بھی اس حوالے سے تو رعایت نہیں۔
اسی طرح اپنے انداز، نشست برخاست میں شائستگی برتنا بچیوں، لڑکیوں کے لئے ضروری ہے۔ اپنے جسم کو ڈھانپنا، ساتر لباس پہننا شرعی طور پر اور ہماری مشرقی اخلاقی روایات کے مطابق بھی ضروری ہے۔ یہ کہنا کہ ہمارے بیٹھنے کے انداز پر تنقید نہ کی جائے، یہ فضول ہے۔ کوئی بھی باپ، بھائی ، اس کا بڑا، اس کا خیر خواہ اپنے عزیز رشتے کو اگر فضول، عامیانہ، گھٹیا انداز میں بیٹھے دیکھے تو ٹوکے گا۔ یہ کامن سینس کی بات ہے۔
اگر ہم اپنے بیٹے، بھانجے ، بھتیجے کو بہنوں کے سامنےشارٹس پہنے دیکھ کر انہیں ٹوک دیتے ہیں، اگر وہ سرعام زیرناف کھجائیں تو انہیں سختی سے ڈانٹ دیتے ہیں کہ یہ مناسب نہیں، یہ مینرز کے خلاف ہے وغیرہ۔ تو ہم اپنی بچیوں کو جسم عیاں کرتے نامناسب لباس پہنے یا ٹانگیں کھول کر فضول انداز میں بیٹھے دیکھ کر کیوں اس کی فہمائش نہیں کر سکتے ؟ اسے کیوں نہیں ٹوکیں گے ؟
اگر خواتین مارچ کی محترم خواتین ہمارے سماج کی خواتین کے لئے مادر پدر آزاد آزادی چاہتی ہیں تو پھر اس کی ہرگز حمایت نہیں کی جائے گی بلکہ اس پر ہم شدید تنقید کریں گے، اس کے جواب میں شائستگی سے اپنی بات رکھیں گے، اپنا مقدمہ پیش کریں گے۔ یہ ہمارا بھی حق ہے۔
(نوٹ : یہ تحریر بنیادی طور پر عورت مارچ کی شدید حامی ایک محترم خاتون کی اس حوالے سے پوسٹ پر لکھی گئی ، اس میں لکھی کئی باتیں دراصل عورت مارچ کے اس بیانیہ کا جواب ہی ہے۔ )

Author

اپنا تبصرہ لکھیں