ایران جنگ کے معاملے پر امریکی عوام اور ریپبلکن پارٹی میں اختلافات، صرف 35 فیصد افراد جنگ کے حامی نکلے

ایک نئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں عوامی رائے منقسم ہے۔

ایفسوس اور رائٹرز کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے سروے کے مطابق صرف 24 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اپنے اخراجات اور فوائد کے لحاظ سے درست رہی ہے، جبکہ 22 فیصد افراد اس بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں بھی اس معاملے پر واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ 55 فیصد ریپبلکنز نے کہا کہ جنگ فائدہ مند رہی، تاہم 20 فیصد نے اسے غیر ضروری قرار دیا جبکہ 24 فیصد نے کوئی واضح رائے نہیں دی۔

یہ جائزہ جنگ بندی کے بعد کیا گیا، ایک ایسے وقت میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو سکتی ہے۔

ایک اور سروے سے بھی معلوم ہوا کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اس معاملے پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو خود کو ٹرمپ کی امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی تحریک سے وابستہ نہیں کرتے، وہ جنگ کی کم حمایت کرتے ہیں۔

جائزے میں یہ بھی سامنے آیا کہ نوجوان ریپبلکنز، 45 سال سے زائد عمر کے افراد کے مقابلے میں، ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی کم حمایت کرتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور سوال کے جواب میں صرف 35 فیصد امریکیوں نے ایران میں فوجی حملوں کی حمایت کی، اور یہ شرح گزشتہ ایک ماہ سے تقریباً مستحکم رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکی عوام اور خاص طور پر ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں