شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں انتہائی سنگین پیش رفت ہوئی ہے، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں انتہائی سنگین پیش رفت ہوئی ہے اور اس کے یورینیم افزودگی کے نئے مرکز کی موجودگی کے امکانات بھی ہیں۔

انہوں نے بدھ کے روز جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی نے شمالی کوریا کے اہم جوہری مرکز یونگ بیون میں سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے۔ اس مرکز میں ری ایکٹر، دوبارہ پروسیسنگ یونٹ اور دیگر تنصیبات شامل ہیں۔

رافائل گروسی کے مطابق یہ تمام علامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارے نے ایک نئی عمارت کی تعمیر کا مشاہدہ بھی کیا ہے جو یورینیم افزودگی کے ایک مرکز سے مشابہت رکھتی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے بھی اس خدشے کو تقویت ملی ہے کہ وہاں افزودگی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق یہ مرکز ممکنہ طور پر ایسا مواد تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہو سکتا ہے۔

رافائل گروسی نے کہا کہ ادارہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ شمالی کوریا کے پروگرام میں روسی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان معاہدے میں بظاہر صرف سول جوہری منصوبے شامل ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں کی طرف پیش رفت کسی بھی ملک کے لیے سلامتی نہیں بلکہ مزید خطرات اور پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے۔

اسی دوران انہوں نے جنوبی کوریا کے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بین الاقوامی نگرانی اور واضح ضمانتیں ضروری ہوں گی تاکہ جوہری مواد کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں