ہم سب نے کبھی نہ کبھی قوس و قزح کو آسمان پر جگمگاتے دیکھا ہے، لیکن کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ اس حسین مظہر کے پیچھے سائنس کیا ہے؟ سورج کی روشنی بظاہر سفید دکھائی دیتی ہے، لیکن درحقیقت اس میں سات رنگ شامل ہوتے ہیں۔ جب بارش کے بعد فضا میں نمی ہو اور سورج ہماری پشت پر ہو تو اُس کی روشنی بارش کے قطروں میں داخل ہو کر اندر سے منعکس ہوتی ہے اور پھر بکھر کر دوبارہ ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے۔
یہ عمل روشنی کے انعکاس (Reflection)، انعطاف (Refraction) اور انتشار (Dispersion) پر مبنی ہوتا ہے۔ ہر رنگ ایک مخصوص زاویے سے منعکس ہوتا ہے، اسی لیے ہمیں آسمان پر ایک محرابی شکل میں لال، نارنجی، پیلا، سبز، نیلا، انڈیگو اور بنفشی رنگوں کی ترتیب کے ساتھ قوس و قزح دکھائی دیتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ زمین سے ہم قوس و قزح کا صرف "نصف قوس” دیکھ پاتے ہیں، کیونکہ زمین کا افق ہمیں باقی آدھا منظر دیکھنے سے روکتا ہے۔ تاہم اگر آپ کسی بلند مقام یا ہوائی جہاز میں ہوں تو مکمل دائرے کی شکل میں قوس و قزح کا نظارہ ممکن ہوتا ہے۔ یہ قدرت کا ایک دلکش راز ہے، جو ہمیں سائنس اور حسنِ فطرت دونوں کی جھلک دکھاتا ہے۔