احمد راہی کو بچھڑے تئیس برس بیت گئے

دو ستمبر2002 کو جب احمد راہی رخصت ہوئے تو ان کی عمر 79 برس تھی۔ انہوں نے پوری زندگی ادبی کام کیا اور بے تحاشہ کیا۔ بجا طور پر انہیں جدید پنجابی شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔

وہ پنجابی زبان کا مان تھا۔ پنجابی شاعری کو اس پر مان تھا۔ تقسیمِ برِصغیر سے پہلے نئی پنجابی نظم کا پہلا شاعر شریف کنجاہی تھا جبکہ تقسیم کے بعد نئی پنجابی نظم کا پہلا شاعر احمد راہی تھا۔

احمد راہی 12 نومبر 1923ء کو امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں خواجہ عبدالعزیز کے ہاں پیدا ہوئے جو شالیں بیچنے کا کام کیا کرتے تھے۔ والدین نے بیٹے کا نام غلام احمد رکھا جبکہ مرشد نے انہیں خورشید احمد کا نام دیا۔ انہوں نے غلام اور خورشید کو ہٹا کر احمد کے ساتھ راہی کا اضافہ کر لیا اور احمد راہی کا قلمی نام اختیار کیا۔ پرائمری تک محمدیہ سکول امرتسر میں تعلیم حاصل کی۔ مڈل کا امتحان خزانہ گیٹ امرتسر سے پاس کیا اور پھر میٹرک کے لیے ایم اے او کالج امرتسر میں داخلہ لیا۔ معروف شاعرہ امرتا پریتم یہاں ان کی کلاس فیلو تھیں۔ سیف الدین سیف چھٹی کلاس سے ہی ان کے دوست اور کلاس فیلو تھے۔ میٹرک کے امتحان میں احمد راہی نے پورے امرتسر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ایف اے میں داخلہ لیا تو تعلیمی و تدریسی کاموں میں عدم دلچسپی اور سیاست میں بھرپور دلچسپی کی وجہ سےانہیں کالج سے ڈراپ آؤٹ ہونا پڑا۔ ان کے کلاس فیلو سیف الدین سیف بی اے کر گئے احمد راہی ایف اے بھی نہ کر سکے۔

احمد راہی کو دلی میں ملازمت مل گئی۔ وہاں انہیں ڈاکٹر یاور حیات کے طرحی مشاعروں میں شرکت کا موقع ملا تو ان کی شاعری میں نکھار آنا شروع ہو گیا۔ مگر وہ زیادہ عرصہ دلی میں نہ رہ سکے ۔ پاکستان بن گیا تھا۔ وہ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ یہاں لاہور میں ساحر لدھیانوی ادبی رسالہ سویرا کے ایڈیٹر ہجرت کر کے ہندوستان چلے گئے تھے۔ احمد راہی کو سویرا کی ادارت مل گئی۔
سعادت حسن منٹو جو بلند پایہ افسانہ نگار تھے احمد راہی کے تایا زاد تھے۔ وہ ”بیلی“ کے نام سے فلم بنا رہے تھے۔ احمد راہی نے ان کی فرمائش پر اس فلم کے چار نغمے لکھے۔ فلم تو تکنیکی وجوہات کی بنا پر کامیاب نہ ہو سکی مگر احمد راہی کے گیت پسند کیے گئے۔

ابتدا میں احمد راہی سیف الدین سیف سے شاعری کی اصلاح لیتے رہے۔ لاہور میں انہوں نے فیض احمد فیض کی شاگردی اختیار کر لی۔ احمد راہی نے تقسیم کے وقت فسادات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ مسلمانوں پر سکھوں کے مظالم کے وہ چشمِ دید گواہ تھے۔ اس کرب، درد، تکلیف اور مظالم کے ردِ عمل کے طور پر انہوں نے اپنی شاعری کی کتاب ”ترنجن“ لکھی جو 1952 میں شائع ہوئی۔ ترنجن دراصل احمد راہی کا پنجابی ادب میں بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اس وقت تک پنجابی کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ نازک احساسات اور جذبات کے اظہار کے لیے یہ زبان موزوں نہیں ہے لیکن احمد راہی ترنجن کے ذریعے اس تاثر کو زائل کرنے میں کامیاب رہے۔ احمد راہی معروف ہستیوں فیض احمد فیض، سیف الدین سیف اور سعادت حسن منٹو سے خصوصی قرابت کی بنا پر ترقی پسند تحریک کا حصہ بھی تھے۔ ترقی پسند شاعری پر معترضین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ترقی پسند شعراء شاعری سے حسن و جمال چھین لیتے ہیں لیکن اس کے برعکس فیض احمد فیض اور ان کے شاگرد احمد راہی نے اپنی شاعری میں حسن و جمال ہی کو اجاگر کیا۔ ترنجن میں شامل تمام نظمیں اور گیت عورت کی زبانی کہلوائے گئے ہیں۔ ترنجن اس آنگن کو کہا جاتا ہے جہاں نوجوان الہڑ دوشیزائیں دائرے میں بیٹھ کر چرخہ کاتا کرتی تھیں۔ وہ گیت گاتیں، کہانیاں سناتیں اور رازو نیاز کی باتیں کرتیں۔ چونکہ ترنجن کا تعلق خالص لڑکیوں یا عورتوں سے ہوتا ہے اس لیے احمد راہی نے مرد کی زبانی کہی گئی نظمیں اپنی کتاب ترنجن سے نکال دیں کیونکہ مرد ترنجن اجاڑتا ہے۔ ترنجن کی شاعری میں عورتوں کے دکھوں کا اظہار ہے۔ لوک گیتوں کی مٹھاس ہے اور پیار کی چاشنی ہے۔ ترنجن آج بھی پنجابی شاعری کی بڑی اہم کتاب ہے اور پاکستان کے درسی پنجابی نصاب کا حصہ بھی ہے۔ترنجن کی شاعری اپنے عہد کی ترجمان ہے۔ 1947 کی ہجرت کے پس منظر میں وہ کہتے ہیں۔

سن وے بابل میریا
تیرے ٹُٹ گئے سارے مان
تیری پگ پَیراں وچ رُل گئی
مِٹّی وچ مِل گئی شان
تیری شرماں والی دھی نوں
اج ویکھ کے سب شرمان

(اے میرے باپ تیرا سارا فخر خاک میں مل گیا ہے۔ تیری شرموں والی بیٹی کی عزت و عصمت پامال کر دی گئی ہے)

ترنجن کی نظموں میں تقسیمِ ہند کے وقت ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو بڑے شاعرانہ طریقے سے جگہ جگہ پیش کیا گیا ہے۔

ناں کوئی سہریاں والا آیا
تے نہ ویراں ڈولی ٹوری
جس دے ہتھ جِدی بانہہ آئی
لے گیا زور و زوری

(نہ کوئی سہرے والا آیا نہ بھائیوں نے ڈولی اٹھائی۔ جس کے ہاتھ جو لگی وہ زبردستی لے گیا)

ترنجن کا دیباچہ احمد ندیم قاسمی نے ”اک دو گلّاں“ کے عنوان سے تحریر کیا۔اس مجموعے کا فلیپ سعادت حسن منٹو نے احمد راہی کی فرمائش پر پنجابی میں لکھا۔ اور یہی سعادت منٹو کی اکلوتی پنجابی تحریر بھی ثابت ہوئی۔ان کے علاوہ کرشن چندر نے بھی ترنجن کا فلیپ لکھ کر احمد راہی کے فن کو داد دی۔

احمد راہی 1954 میں باقاعدہ فلمی صنعت سے وابستہ ہو گئے۔ پہلی فلاپ فلم کے بعد احمد راہی نے دو فلموں ”مجرم“ اور ”پرواز“ کے گیت لکھے مگر یہ فلمیں بھی ناکام رہیں۔ احمد راہی کو فلمی دنیا میں کامیابی 1956 میں ریلیز ہونے والی فلم ”ماہی منڈا“ سے ملی۔ عنایت حسین بھٹی کی آواز میں اس فلم کے گیت ”رنّاں والیاں دے پکن پرونٹھے تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے۔ ہائ ربّا جی ساڈی اگ نہ بلے“ نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ فلم یکے والی اور چھو منتر کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ دونوں فلمیں سُپر ہٹ ثابت ہوئیں اوراحمد راہی مستند فلمی نغمہ نگار بن گئے۔ 1968 میں بننے والی فلم مرزا جٹ کی کہانی چیلنج سمجھ کر انہوں نے لکھی کیونکہ اس موضوع پر بننے والی ایک فلم پہلے فلاپ ہو چکی تھی۔ ان کی لکھی فلم بے حد کامیاب ثابت ہوئی۔ فلم کے مکالموں کے ساتھ ساتھ گیت بھی احمد راہی نے لکھے جنہیں انتہائی مقبولیت ملی۔

مٹیارو نی میرے ہان دیو
تسی حال میرے نوں جان دیو
حال میرے توں ڈرنا نی
اڑیو پیار نہ کرنا نی

(اے میری ہم عمر لڑکیو۔ تم میرے حال سے واقف ہو۔ میرے حال سے ڈرو۔ سہیلیو پیار نہ کرنا)

پنجابی فلموں کے ماتھے کا جھومر ”ہیر رانجھا“ کے مکالمے اور گیت بھی احمد راہی نے لکھے۔ اس فلم میں 12 گیت ہیں اور سب کے سب سپر ہٹ ہوئے۔

اپنے 40 سالہ فلمی کیریئر میں احمد راہی نے 260 فلموں کے سکرپٹ اور 1900 سے زائد فلمی گیت لکھے۔ ان کا معروف انگ تو پنجابی ہی رہا مگر اردو میں بھی جو لکھا کمال لکھا۔ فلم باجی کا یہ گیت دیکھیں۔

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
دلِ تنہا غمِ تنہائی میں ڈھل جائے گا
اسی فلم کا یہ گیت بڑا مشہور ہوا
چندا توری چاندنی میں دیا جلا جائے رے
بِرہا کی بَیری رتیاں بیتے ناہی ہائے رے

احمد راہی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس) سے بھی نوازا گیا۔ معروف شاعرہ امرتا پریتم اور لیجنڈ گلوکارہ نورجہاں انہیں پنجاب دا لاڑا کہا کرتی تھیں۔ احمد راہی خود امرتا پریتم کی شاعری کے بڑے مداح تھے۔

احمد راہی نے جن فلموں کے سکرپٹ لکھے ان میں مرزا جٹ، ہیر رانجھا، سسی پنوں، ناجو، گڈو، اچا شملہ جٹ دا، شہری بابو، ماہی منڈا، یکے والی، چھو منتر، مٹی دیاں مورتاں، باجی اور بازارِ حسن شامل ہیں۔

پنجاب دا لاڑا، احمد راہی 2 ستمبر 2002 کو 79 سال کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ وہ خود تو چلا گیا مگر ترنجن اور اپنے لازوال فلمی گیتوں کی صورت میں ہمارے دلوں میں ہمیشہ کے لیے خود کو امر کر گیا۔ وہ خود تو ہم سے بچھڑ کے چپ ہو گیا مگر اس کے الفاظ خاموش نہیں ہوئے۔ وہ آج بھی بولتے ہیں۔

احمد راہی کے کچھ یادگار فلمی نغمات

1.میری چُنی دیاں ریشمی تنداں
2. چندا توری چاندنی میں دیا جلا جائے رے
3. اینی گل دس دیو نِکے نکے تاریو
تسی کیہڑے چن دے وچھوڑیاں دے مارے او
4. چن ماہی آ تیری راہ پئی تکنی آں۔
5. مٹیارو نی میرے ہان دیو
6. سُنجے دل والے بوہے اجے میں نہیں ڈھوئے
7. ماہی وے مینوں لال چڑھا دے چوڑا
8. بابل تیری میری چُھو
9. تیرے نال میں لائیاں اکھیاں
10. گورے رنگ تے دوپٹیاں دی چھاں کر کے
11. مَیں جدوں دا تن من لا دتا اے تیرے لیکھے وے
مینوں اپنے آپ چوں پَیندے ڈھولا تیرے بھلیکھے وے
12. ونجھلی والڑیا
13. کدی آ مل رانجھن وے
14. برے نصیب میرے ویری ہویا پیار میرا
15. کوئی نواں لارا لا کے مینوں رول جا
16. رُکھ ڈولدے تے اکھ نہیوں لگدی
نِمی نِمی وا ٕ وگدی
17. جھوٹھیے جہان دیے کچیے زبان دیے
18. اکھیاں وے راتیں سَون نہ دیندیاں
19. زلفاں دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا
20. نِکے ہوندیاں دا پیار ویکھیں دیویں نہ وسار
21. جدوں تیری دنیا چوں پیار ٹر جاوے دا
دس فیر دنیا تے کی رہ جاوے دا
22. ڈھول بلوچا موڑ مہاراں
23. اک مر جانی دا دوپٹّا کسے دے سیّو پَیریں رُلیا
24. اِک روویں توں بدلا دوجے روندے نَین نمانے
25. جان والیا تینوں میں سنا نہ سکی دل والی گل وے۔
26. آندا تیرے لیے ریشمی رومال
27. وگدے نیں اکھیاں چوں راوی تے جھناں وے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں