افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق افغانستان نے غزہ کے لیے 530 ٹن انسانی امداد رفح کراسنگ کے ذریعے بھیج دی ہے۔
بیان کے مطابق یہ امدادی سامان مصر میں افغان عبوری حکومت کے ایک وفد نے تیار اور خریدا، جسے 22 ہزار خاندانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
امداد میں خوراک، کپڑے اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً پانچ لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔
کابل حکومت نے فلسطین کے مسئلے پر اپنے مضبوط مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا حل تاریخی حقائق اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے مطابق ہونا چاہیے۔
فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 72 ہزار سے زائد افراد شہید اور ایک لاکھ 72 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
اگرچہ گزشتہ سال اکتوبر سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم غزہ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے گولہ باری، فائرنگ اور دراندازی کے واقعات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی کم از کم 757 افراد جاں بحق اور 2,111 زخمی ہو چکے ہیں۔
ادھر غزہ میں انسانی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ فلسطینیوں اور عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں پہنچنے والی امداد ناکافی ہے اور صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔