ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے اولمپک ٹاؤن میں صدارتی اولمپیاڈ 2026 کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے دوسرے صدارتی اولمپیاڈ کے آغاز کا باضابطہ اعلان کیا۔ تقریب میں علاقائی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے ساتھ 2026 کے ایشین گیمز اور ایشین پیرا گیمز کے فاتحین نے بھی شرکت کی۔
رواں سال اس مقابلے میں 26 اولمپک اور پیرا اولمپک کھیلوں کے شعبوں میں 3 ہزار 500 سے زائد نوجوان کھلاڑی حصہ لیں گے، جن کے ہمراہ تقریباً 1 ہزار 500 کوچز بھی ہوں گے۔
صدر شوکت مرزیایوف نے خطاب میں کہا کہ ازبکستان نے نچلی سطح سے پیشہ ورانہ کھیلوں تک ایک جامع نظام قائم کیا ہے، جس کے تحت باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت سے لے کر انہیں بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تیار کرنے تک تمام مراحل پر توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ازبک کھلاڑیوں نے بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں مجموعی طور پر 5 ہزار 518 تمغے حاصل کیے، جن میں 1 ہزار 675 طلائی تمغے شامل ہیں۔ یہ تعداد اس سے پہلے کی دہائی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ ان کامیابیوں میں خواتین کھلاڑیوں کا حصہ بھی نمایاں رہا، جنہوں نے مجموعی تمغوں کا ایک تہائی حاصل کیا۔
تقریب میں ازبکستان کی حالیہ کھیلوں کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ سمرقند میں منعقدہ عالمی شطرنج اولمپیاڈ میں ازبکستان نے دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ جاپان میں ہونے والے 20ویں ایشین گیمز میں ازبک قومی ٹیم نے 21 طلائی، 25 چاندی اور 24 کانسی کے تمغے جیت کر مجموعی درجہ بندی میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔
اسی طرح ایشین پیرا گیمز میں ازبک پیرا ایتھلیٹس نے 45 طلائی، 49 چاندی اور 51 کانسی کے تمغوں سمیت مجموعی طور پر 145 تمغے جیتے اور ٹیموں کی مجموعی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔
صدر نے کھلاڑیوں، ان کے اساتذہ اور کوچز کے ساتھ ان والدین کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو اپنے بچوں کے خوابوں اور عزائم کی تکمیل میں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان بڑے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں ملک تقریباً 20 عالمی اور ایشیائی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کر چکا ہے۔ آئندہ سال ستمبر اور اکتوبر میں ازبکستان اور آذربائیجان مشترکہ طور پر پہلی مرتبہ فیفا انڈر 20 ورلڈ کپ کی میزبانی کریں گے۔
نوجوان کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے خود اعتمادی، نظم و ضبط اور مسلسل محنت کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں، خود کو بہتر بنانے کے لیے محنت کریں اور اپنے وطن کے وقار کے مطابق کارکردگی دکھائیں۔
نوجوان کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع اور مراعات
صدارتی اولمپیاڈ کے شرکا کے لیے متعدد نئی مراعات کا اعلان بھی کیا گیا۔ آئندہ سال سے مقابلے میں کامیاب ہونے والے کھلاڑیوں کے نقد انعامات میں ڈھائی گنا اضافہ کیا جائے گا۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے کو 2 کروڑ 50 لاکھ ازبک سوم، دوسری پوزیشن پر 1 کروڑ 20 لاکھ سوم اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی کو 60 لاکھ سوم دیے جائیں گے۔ مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے اور قومی ریکارڈ قائم کرنے والے اسکول گریجویٹس کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے شعبوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ سے استثنیٰ دیا جائے گا، جبکہ انہیں سرکاری تعلیمی وظیفے پر داخلہ بھی مل سکے گا۔ مستقبل میں صدارتی اولمپیاڈ میں کھیلوں کی تعداد 26 سے بڑھا کر 35 کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ 14 سے 17 سال کی عمر کے طلبہ بھی ان مقابلوں میں حصہ لے سکیں گے۔ ہر سال صدارتی اولمپیاڈ کے 50 فاتحین کو بیرونِ ملک بین الاقوامی تربیتی کیمپوں میں شرکت کے لیے بھیجا جائے گا۔ آئندہ سال سے کامیاب کھلاڑیوں کو ایک سالہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اپنے متعلقہ کھیلوں میں بہترین نتائج دینے والے اسپورٹس اسکولوں کو ضروری کھیلوں کا سامان اور آلات فراہم کیے جائیں گے۔
صدر نے تاشقند میں قائم اولمپک گلوری میوزیم کو اولمپک ٹاؤن منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا، تاکہ نوجوان کھلاڑی ازبکستان کے چیمپئنز کی تاریخ، کامیابیوں اور کھیلوں کے ورثے سے مزید آگاہ ہو سکیں۔ شوکت مرزیایوف نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، کھیلوں میں منصفانہ مقابلے کو ترجیح دیں اور اپنے والدین و اساتذہ کی قدر کریں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑی میدان میں مضبوط حریف بنیں، لیکن مقابلے کے بعد دوستی اور احترام کے رشتے برقرار رکھیں۔ بعد ازاں صدر شوکت مرزیایوف نے صدارتی اولمپیاڈ 2026 کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا۔ اس موقع پر جمہوریہ ازبکستان کا قومی ترانہ پیش کیا گیا، جس کے بعد تقریب میں موسیقی اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوا۔ تقریب کے اختتام پر صدارتی اولمپیاڈ کی مشعل روشن کی گئی۔