تاشقند میں بین الاقوامی تعلیمی فورم، پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان علمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان کی وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں بین الاقوامی تعلیمی فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعلیمی، سائنسی اور تحقیقی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور اساتذہ کے تبادلوں، مشترکہ ڈگری پروگراموں اور جامعات کے درمیان تعاون سے خطے کے نوجوانوں کے لیے نئے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

وجیہہ قمر نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور علمی روایات پر قائم ہیں، جنہیں جدید تعلیمی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، طب، زراعت، کان کنی، قابلِ تجدید توانائی اور زبانوں کی تعلیم کو ایسے شعبے قرار دیا جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

وزیرِ مملکت نے پاکستان کی تعلیمی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے، خصوصاً لڑکیوں اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے، شرحِ خواندگی بہتر بنانے اور نوجوانوں کو جدید فنی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن تحقیقی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن نوجوانوں کو روزگار کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے علاقائی تعلیمی تعاون کے لیے تین اہم ترجیحات پیش کیں، جن میں طلبہ اور محققین کے تبادلوں میں اضافہ، جامعات اور صنعتی شعبے کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، اور خواتین سمیت محروم طبقات کے لیے تعلیم کے مساوی مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔ وجیہہ قمر نے زور دیا کہ تعلیمی معاہدوں کے نتائج محض دستاویزات تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ ان کے عملی فوائد طلبہ، محققین اور معاشرے تک پہنچنے چاہییں۔

ازبکستان میں منعقدہ اس بین الاقوامی تعلیمی فورم میں وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے تعلیم، مختلف جامعات کے سربراہان، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور ماہرینِ تعلیم کی شرکت کا اہتمام کیا گیا۔ فورم کا بنیادی مقصد تعلیم، سائنس اور جدت کے شعبوں میں علاقائی روابط کو فروغ دینا، مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو وسعت دینا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں