UAE AND uzabekistan coperation

ازبکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، دوستی اور مشترکہ مفادات پر مبنی شراکت داری کے تحت مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ 1992 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی روابط مضبوط ہوئے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار بھی دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہیں۔ قومی شماریاتی کمیٹی کے مطابق، 2025 میں ازبکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی حجم 1.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ جنوری سے اگست 2026 کے دوران یہ حجم 1.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
سرمایہ کاری: 450 سے زائد کمپنیاں اور نئے منصوبے
سرمایہ کاری دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ ازبکستان کی وزارتِ سرمایہ کاری، صنعت و تجارت کے مطابق، ملک میں متحدہ عرب امارات کے سرمائے سے قائم 450 سے زائد کاروباری ادارے کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ازبکستان میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری تقریباً 3 ارب ڈالر رہی ہے۔
15 جنوری 2025 کو ابوظہبی میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کو اقتصادی شراکت داری کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔ ان مذاکرات میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلائزیشن، ماحول دوست توانائی، شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور نجی شعبے کی ترقی کو تعاون کے ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا۔
دونوں ممالک نے 2030 تک باہمی تجارت میں دس گنا اضافہ کرنے اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کے مجموعی پورٹ فولیو کو 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا۔
ماحول دوست توانائی: معاہدوں سے عملی منصوبوں تک
متحدہ عرب امارات کی کمپنی مصدر ازبکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم سرمایہ کار ہے۔ مصدر کے تعاون سے مجموعی طور پر 1.5 ارب ڈالر مالیت کے توانائی کے چھ منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
ان منصوبوں کی اہمیت صرف بجلی کی پیداوار میں اضافے تک محدود نہیں، بلکہ یہ توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، صنعتی ضروریات پوری کرنے اور ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
16 اکتوبر 2026 کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے مصدر اور اے ایم ای اے پاور کے سربراہان سے ملاقات کی۔ صدارتی پریس سروس کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے ازبکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی تجارت میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ملاقات میں بڑے سرمایہ کاری منصوبوں پر عمل درآمد کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
دبئی کے ساتھ کاروباری روابط: تاجروں کے لیے نئے مواقع
26 اگست 2026 کو دبئی میں ازبکستان بزنس کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے کاروباری افراد کے درمیان براہِ راست روابط کو فروغ دینا، نئے شراکت دار تلاش کرنے میں مدد دینا اور تجارت و سرمایہ کاری کے منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے اختتام تک دبئی چیمبر آف کامرس سے وابستہ ازبکستانی کمپنیوں کی تعداد 826 ہو گئی، جو 2024 کے مقابلے میں 21.3 فیصد زیادہ ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں مزید 75 ازبکستانی کمپنیاں بھی چیمبر میں شامل ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار متحدہ عرب امارات کی منڈی میں ازبک کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
7 اکتوبر 2026 کو ابوظہبی میں منعقدہ انویسٹوپیا برج فورم کے دوران کاروباری گول میز اجلاس میں بھی دوطرفہ تعاون کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، مصنوعی ذہانت، مالیات، زراعت، غذائی تحفظ، سیاحت اور ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس کے شعبوں میں شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا۔
شراکت داری کے نتائج اور مستقبل کے امکانات
سفارتی تعلقات کے 34 برسوں کے دوران ازبکستان اور متحدہ عرب امارات کے روابط ایک کثیرالجہتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور کاروباری سرگرمیاں نمایاں اہمیت رکھتی ہیں۔ تجارتی حجم میں اضافہ، اماراتی سرمائے سے قائم کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور توانائی کے منصوبے اس تعاون کی پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔
تاہم، اگلے مرحلے میں دونوں ممالک کے لیے ضروری ہوگا کہ طے پانے والے معاہدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ازبکستان کو اپنی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے، مشترکہ پیداواری منصوبوں کو وسعت دینے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔
ازبکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مسلسل تعاون دونوں ممالک کی اقتصادی صلاحیت مضبوط بنانے اور باہمی مفادات پر مبنی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے نئے امکانات پیدا کر رہا ہے۔ بالآخر، اس شراکت داری کی کامیابی کا اصل معیار ٹھوس نتائج ہوں گے، یعنی پائیدار اقتصادی ترقی میں اس کا کردار اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری۔

اپنا تبصرہ لکھیں