وسطی ایشیا کی سائنسی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ازبکستان کی اکیڈمی آف سائنسز کی نائب صدر پروفیسر شاہلو توردیکولووا کو ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز (TWAS) کے وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے 2027-2028 کی نائب صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
وہ اس عہدے پر منتخب ہونے والی ازبکستان اور وسطی ایشیا کی پہلی نمائندہ ہیں، جو خطے کے لیے ایک اہم اعزاز ہے۔
ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز 1983 میں طبیعیات کے نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کی کوششوں سے قائم ہوئی۔ یہ عالمی ادارہ 112 ممالک کے ممتاز محققین اور نوبیل انعام یافتگان کو یکجا کرتا ہے۔ یونیسکو کے پروگرام سے وابستہ یہ اکیڈمی ترقی پذیر ممالک میں سائنسی تحقیق اور ترقی کے فروغ کے لیے معاونت فراہم کرتی ہے۔
شاہلو توردیکولووا کا انتخاب اکیڈمی کے ارکان کی ووٹنگ کے بعد عمل میں آیا۔ وہ چھ نائب صدور میں سے ایک کی حیثیت سے اکیڈمی کی کونسل کا حصہ بنیں گی اور یکم جنوری 2027 سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ وہ 2025 میں ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔
اکیڈمی کی نئی کونسل کی سربراہی چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے صدر ہو جیانگو کریں گے۔ شاہلو توردیکولووا کی کونسل میں شمولیت سے وسطی ایشیا کو عالمی سائنسی ترجیحات کے تعین میں براہِ راست کردار ادا کرنے، بین الاقوامی سائنسی تعاون کو فروغ دینے اور محققین کی معاونت کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
پروفیسر شاہلو توردیکولووا کی سائنسی تحقیق میں وسطی ایشیائی آبادی کی جینیاتی خصوصیات کا مطالعہ اور ازبکستان میں بائیوٹیکنالوجی کی ترقی نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے ملک کا پہلا مقامی پی سی آر ٹیسٹ سسٹم تیار کیا گیا، جبکہ ازبکستان اور چین کے اشتراک سے تیار ہونے والی ویکسین ZF-UZ-VAC 2001 کی تیاری میں بھی ان کا کردار اہم رہا۔
ان کی اس عالمی عہدے پر تقرری ازبکستان کی سائنسی صلاحیتوں کے بین الاقوامی اعتراف اور عالمی تحقیقی تعاون میں وسطی ایشیا کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔