اسر-ائیل میں کانٹے کا مقابلہ، گنتی کے دوران دائیں بازو کے رہنماؤں کے متنازع بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی

اس-رائیل میں منگل کو ہونے والے عام انتخابات کی گنتی جاری ہے، اور اب تک کوئی بھی کیمپ حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت تک پہنچتا نظر نہیں آ رہا۔ اسی دوران دائیں بازو کے سینئر رہنماؤں کے بیانات نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ان رہنماؤں نے عرب ووٹرز، الیکشن چوری کی کوشش کے الزامات اور غ-زہ میں یہودی بستیاں بسانے کے منصوبوں پر متنازع باتیں کہیں۔ یہ بیانات پولنگ کے دن اور ایگزٹ پولز کے بعد سامنے آئے، جن میں اس-رائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حکمران اتحاد کو دھچکا لگتا دکھائی دیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹرچ نے بدھ کی صبح یروشلم میں اپنی جماعت کے ہیڈکوارٹر میں اپوزیشن کے جشن کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں بستیوں کا جو “انقلاب” لایا گیا ہے، مخالفین اسے واپس نہیں پلٹ سکیں گے، اور غ-زہ میں بھی یہودی بستیاں قائم کی جائیں گی۔ مغربی کنارے کی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں، جبکہ اس-رائیل 2005 میں غ-زہ سے اپنی بستیاں ختم کر چکا ہے۔ اس سے پہلے منگل کو سموٹرچ نے فیس بک پر دعویٰ کیا تھا کہ عرب اور بائیں بازو کے مضبوط علاقوں میں ٹرن آؤٹ غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، مگر اس کے حق میں کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کیے۔

اس-رائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ووٹنگ کے دوران خبردار کیا کہ عرب ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن پہنچ رہے ہیں، اور اپوزیشن جیتی تو اس-رائیل کا یہودی تشخص خطرے میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے عرب جماعت رعام کے تین سینئر رہنماؤں پر الیکشن چرانے کی کوشش کا الزام بھی لگایا۔ پولیس نے ووٹ خریدنے کے شبے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے، تاہم ان کے رعام میں سینئر عہدوں پر ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔ اسرائیلی وزیرِ ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے بھی ایکس پر انہی الزامات کو دہرایا۔

عرب سیاسی رہنماؤں نے الیکشن کے دن دیے گئے ان پیغامات کو نسل پرستانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ برطانوی-امریکی ماہرِ سیاسیات ڈوو ویکسمین نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ غیر واضح نتائج کی صورت میں نیتن یاہو غالباً یہ پیغام زور دے کر پھیلائیں گے کہ عرب جماعتوں پر مشتمل کوئی بھی حکومت “غیر جائز” ہو گی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تقریباً 60 فیصد پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج آنے تک نیتن یاہو کا دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد 56 نشستوں پر ہے، جبکہ اسرائیل کے سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کا اپوزیشن اتحاد 48 پر ہے۔ عرب جماعتوں کو 16 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں، اور باقی ووٹوں کی گنتی سے توازن اب بھی بدل سکتا ہے۔

اسرائیلی عرب جماعت رعام کے سربراہ منصور عباس کا دعویٰ ہے کہ لیکود اور آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن کیمپ، دونوں نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ ادھر آئزن کوٹ ایگزٹ پولز کے بعد کہہ چکے ہیں کہ وہ نیتن یاہو حکومت کو ہٹانے کے لیے فوری اقدام کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں