ویکیپیڈیا کے مطابق ’ پولیس سے مراد وہ سرکاری ادارہ ہے جو قانون کی پاس داری اور امن عامہ برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ پولیس شہریوں کی حفاظت ، جرائم کی روک تھام اور ان کی تفتیش اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کام کرتی ہے’۔
کچھ دانش وروں کے بقول لفظ Police میں Pسے مراد Polite۔۔O سے مراد obedience۔۔اور Lسے مراد loyal۔۔Iسے مراد intelligent۔۔Cسے مراد Courageous۔۔اور Eسے مرادEfficient ہے۔
جبکہ یوٹیوب کے مطابق اس سے مراد Public officer for legal investigation and criminal emergencies ہے۔ اگر ہم اوپر دے گئے دونوں ’’ مخفف ہائے ‘‘ کاپنجاب کی پولیس سے موازنہ کریں تو پہلے والی تشریح درست نہیں معلوم ہوتی ۔ کیونکہ اس میں بتائی گئی خوبیوں میں سے صرف Courageousوالی واحدخوبی ہماری پولیس میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ چند استثنائی صورتوں کے علاوہ ریڈ کرنی ہو، بلا وارنٹ دیواریں پھلانگنی ہوں ، کسی کو پھینٹی لگانی ہو، ناکے لگا کر عوام سے پیسے بٹورنے ہوں ، تھانوں کے اندر مک مکا کرنا ہو،چوروں ،ڈکیٹوں اور اور نشہ بیچنے والوں کی پشت پناہی کرنی ہو ، ما وارائے عدالت قتل کرنے اور حکومت وقت کے کہنے پراس کے سیاسی مخالفین کی بینڈ بجانی ہوتو پولیس ضرورت سے زیادہ بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کرتی ہے ۔
جہاں تک دوسرے مخفف کا تعلق ہے وہ تعریف کسی حد تک درست معلوم ہوتی ہے ۔ کیوں کہ ہمارے پولیس والے واقعی پبلک سرونٹ نہیں بلکہ پبلک آفیسرز ہیں اور وہ واقعی دیگر کاموں کے علاوہ مقدمات کی تفتیش کا عمل بھی سر انجام دیتے ہیں ۔ اس تفتیش میں عام طور پر مدعی کو ملزم کی طرح اور طاقت ور ملزم کووی آئی پی کی طرح ڈیل کیا جاتا ہے ۔ ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ173 کے تحت تفتیشی افسر پابند ہے کہ وہ مقدمے کی تفتیش 14 دنوں کے اندر اندر مکمل کر ے ۔ بصورت دیگر وہ متعلقہ عدالت سے مدت کو بڑھانے کی اجازت لے ۔ لیکن کوئی بھی تفتیشی افسر اس قانون کی پابندی نہیں کرتا ۔ اگر یقین نہ آئے تو کسی بھی ضلع کے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے دفترسے تفصیلات حاصل کر لیں ۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب کی سربراہی میں ’’ کریمینل کوآرڈی نیشن کمیٹی‘‘ کی ماہانہ میٹنگ میں سب سے زیادہ لے دے چالانوں کی بروقت مکمل نہ کرنے پر ہوتی ہے ۔ پولیس آرڈر ۔ 2002 کے آرڈر 155 میں باقی سزاؤں کے علاوہ جان بوجھ کر اپنے فراءض منصبی نہ ادا کرنا بھی ایک جرم ہے ۔ لیکن عام طور پر کسی بھی تفتیشی افسر کے خلاف تفتیش بروقت نہ مکمل کرنے کی پاداش میں کاروائی نہیں ہوتی ۔ ذیل میں ہم صرف ایک مقدمہ کا احوال بیان کرتے ہیں جس سے قارئین کو سمجھنا آسان ہو جائے گا کہ ہماری پولیس کس ڈھنگ سے اپنے فرائض منصبی ادا کرتی ہے۔
یہ مورخہ 25 اور26 فروری 2025 کی درمیانی شب کا وقوعہ ہے ۔ ایک خاندان کا ایک مرد اور چار عورتیں ،کرایہ پر لی گئی کار میں ،لاہور سے ایک جنازے میں شامل ہونے کے لیے پھول نگر کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔ رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب ’’ پرناواں بائی پاس‘‘ کے قریب پہنچتے ہیں ۔ ان کی کا ریو ٹرن لینے کے لیے تھوڑی آہستہ ہوتی ہے تو پانچ عدد ڈاکو گاڑی کو گھیر لیتے ہیں ۔ ایک ڈاکو ڈرائیور کی کنپٹی پر اپنا پستول رکھتا ہے ۔ گاڑی کی چابی نکالتا ہے اور ڈرائیور کو باہر نکلنے کا حکم دیتا ہے ۔ باقی تین ڈاکو کار کے تینوں دروازے کھولتے ہیں اور ایک ڈاکو گاڑی کے عقب میں کھڑا ہو جاتا ہے ۔ سارے ڈاکو آتشیں اسلحہ سے مسلح ہوتے ہیں ۔ وہ زیورات اتروانے کے لیے بدتمیزی کے ساتھ خواتین کے دوپٹے کھینچتے ہیں ۔ ان میں سے صرف ایک خاتون نے کانوں میں طلائی کانٹے پہنے ہوئے تھے اور اس کے پاس 50,000 روپے نقدی تھی ۔ ڈاکو یہ کانٹے اور نقد رقم چھین کر گاڑی کو بھگا لے جانے کا حکم دیتے ہیں ۔ ڈرائیور گاڑی بھگا دیتاہے ۔ گاڑی میں موجود ایک خاتون پولیس ہیلپ لائن:15 پر کال کر دیتی ہے ۔ اتنے میں ان کی گاڑی کے آگے جاتی ہوئی پولیس کی گشت والی گاڑی نظر آتی ہے ۔ ایسے لگتا تھا کہ وہ گاڑی ابھی جائے وقوعہ سے گزر کر گئی ہو ۔ اسے روکا جاتا ہے ۔ اس میں ایک ڈرائیور اور ایک پولیس ملازم سوارہوتا ہے ۔ وہ پوری فیملی کو تھانہ میں لے جاتے ہیں ۔ مذکورہ خاتون سے ایک درخواست پر ستخط کرواتے ہیں ۔ اور مقدمہ نمبر 286/25بجرم392 مورخہ 26 ۔ فروری2025 ،تھانہ سٹی پھول نگر ،ضلع قصور میں درج ہوجاتا ہے ۔
اب اس مقدمہ کے اندارج میں پولیس کی چالاکی ملاحظہ فرمائیں ۔ مدعیہ کے مطابق موقع پر پانچ ڈاکو تھے ۔ لیکن پولیس نے جس درخواست پر مدعیہ سے دستخط کروائے اس میں جان بوجھ کر ڈاکووَں کی تعداد چار لکھ دی ۔ اگر ملزمان کی تعداد پانچ لکھی جاتی تو تعزیرات پاکستان کی دفعہ391 میں دی گئی تعریف کے مطابق یہ جرم راہزنی نہیں ڈکیٹی کا بن جانا تھا اور پولیس کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 395 کے تحت مقدمہ درج کرنا تھا ۔ جس کی سزاعمر قید اور جرمانہ بنتی ہے ۔ ڈکیٹی کا مقدمہ درج ہونے کی صورت میں تھانہ کے ایس ایچ او سے پوچھ گچھ بھی کی جاتی ہے ۔ اس لیے ہماری مستعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے وقت ہی ڈکیٹی کو راہزنی بنا دیا ۔ اب اس مقدمہ کی تفتیش کی طرف آتے ہیں ۔ مدعیہ نے متعدد بار تھانے میں رابطہ کیا لیکن اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا گیا ۔ پولیس کے رویے سے مایوس ہو کر مدعیہ مورخہ08 ۔ مئی 2025کو جناب آئی جی پنجاب کی ہیلپ لائن1787 پر کال کرتی ہے ۔ اس پر ایس پی انوسٹی گیشن قصور کے دفتر سے مدعیہ کو کال کرکے10 ۔ جولائی2025 کو دن دس بجے دفتر میں حاضر ہونے کا حکم صادر ہوتاہے ۔ مدعیہ سخت بارش میں اپنے بھائی کے ساتھ لاہور سے قصور پہنچتی ہے ۔ سارا دن انتظار کے بعد اسے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے:’’ کہ آپ کا مقدمہ دوبارہ کھولتے ہیں ‘‘ ۔ پھر مدعیہ کو بذریعہ فون کال12 ۔ جولائی2025 کو دن دس بجے ڈی ایس پی پتوکی کے روبرو حاضر ہونے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ مدعیہ یہ کہہ کر جانے سے انکار کر دیتی ہے کہ’’ میں مدعیہ ہوں ، ملزمہ تو نہیں ‘‘آخری خبریں آنے تک مدعیہ کو بار بار تھانے میں طلب کیا جا رہا ہے ۔
تکلیف دہ امر یہ ہے پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے تو اس میں مدعیہ کو بار بار طلب کرنے کا کیا مقصد ہے۔ کیا پولیس افسران کی یہ ڈیوٹی نہیں ہے کہ وہ ملزمان کو ڈھونڈیں ۔ کیا مدعی نے ملزمان ڈھونڈ کر دیناہوتے ہیں ۔جناب پنجاب کے آئی جی پولیس صاحب سے گزارش ہے کہ اپنے ماتحتوں کے ایسے ہتھکنڈوں کی طرف دھیان دیں ۔ مدعیان کی ملزمان کی طرح پیشیوں سے جان چھڑوائیں ۔ اب بھی اگر عوام نے خجل خراب ہی ہونا ہے تو آپ جیسے مستعد اور محنتی افسر کا عوام کو کیا فائدہ ۔ایسے مواقع بار بار نہیں ملا کرتے ۔ اس لیے عام شخص کے لیے کچھ کر گزریں اور تاریخ میں امر ہو جائیں ۔