وزیراعظم پاکستان کا سہ ملکی دورہ مکمل، علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے لیے پاکستان کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے تین ملکی دورے کے دوران عالمی اور علاقائی امور، باہمی تعلقات کے فروغ اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق، وزیراعظم انطالیہ سے وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں ترکیہ کے حکام اور پاکستان کے سفارتی نمائندوں نے انہیں الوداع کیا۔ بیان کے مطابق، تین روزہ دورے کے دوران وزیراعظم نے تینوں برادر ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنماؤں سے بھی گفتگو کی۔

اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی سمیت دیگر حکام شامل تھے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان دوروں کو”نتیجہ خیز اور مفید“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا محور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فورم کے موقع پر وزیراعظم کی ترک صدر رجب طیب ایردوان سے اہم ملاقات ہوئی، جبکہ دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے ممالک امن، استحکام اور تعاون کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے دورے کا آغاز 15 اپریل کو سعودی عرب سے کیا، جہاں ان کی ولی عہد محمد بن سلمان سے دو گھنٹے طویل ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں وہ 16 اپریل کو قطر گئے جہاں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ون آن ون ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسی روز وزیراعظم ترکیہ کے شہر انطالیہ پہنچے اور 17 اپریل کو فورم میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ترک صدر اور امیر قطر کے ساتھ سہ فریقی ملاقات بھی کی، جبکہ آذربائیجان، قازقستان اور شام کے صدور سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں بھی کیں۔

وزیراعظم اور ترک صدر نے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے لیے عملی پیش رفت کی جائے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں