لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دس روزہ جنگ بندی جمعہ کے آغاز پر نافذ ہوئی، جس کے بعد لڑائی میں وقتی وقفے کی امید پیدا ہوئی ہے اور ممکنہ طور پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں بھی پیش رفت کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اب بھی یہ واضح نہیں کہ آیا اسرائیل مکمل طور پر حزب اللہ پر حملے روک دے گا یا نہیں، اور آیا حزب اللہ اس معاہدے کو تسلیم کرے گی جس کی مذاکراتی عمل میں اس کی براہِ راست شمولیت نہیں رہی، جبکہ اس معاہدے کے تحت جنوبی لبنان کے ایک حصے میں اسرائیلی فوج کی موجودگی برقرار رہے گی۔
دارالحکومت بیروت میں جنگ بندی کے آغاز پر شہریوں نے فضا میں فائرنگ کر کے خوشی کا اظہار کیا، جبکہ بے گھر خاندانوں نے سرکاری انتباہ کے باوجود جنوبی لبنان اور بیروت کے مضافاتی علاقوں کی جانب واپسی شروع کر دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو لبنان کے لیے ‘تاریخی دن’ قرار دیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بھی جلد ختم ہونے کی توقع ہے۔
ادھر ایران کے مذاکرات کاروں نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کو کسی بھی بڑے معاہدے کے لیے اہم شرط قرار دیا تھا، جبکہ اسرائیل پر اس سے قبل لبنان میں حملے جاری رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، علاقائی سفارتی کوششوں کے تحت پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی باقر قالیباف سے ملاقات کی تاکہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی راہ نکالی جا سکے۔
جنگ بندی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، تاہم بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد اس اہم گزرگاہ کو بند کر دیا تھا جہاں سے دنیا کے تقریبا پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔
اس تنازعے میں اب تک ایران میں تین ہزار، لبنان میں دو ہزار سے زائد، اسرائیل میں 23 جبکہ خلیجی ممالک میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں جائے گی اور وہاں ایک سکیورٹی زون برقرار رکھا جائے گا۔
دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ لبنانی عوام کو اپنے علاقے کے دفاع کا حق حاصل ہے اور اس کا آئندہ لائحہ عمل حالات کے مطابق طے کیا جائے گا۔