بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں پر کیے گئے میزائل، فضائی اور ڈرون حملوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ صورتحال، شہری و عسکری نقصانات، اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں بھارتی حملوں کو پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق اعلانِ جنگ قرار دیا گیا۔ کمیٹی نے بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور مساجد کو نشانہ بنانا انتہائی شرمناک جرم اور انسانی و عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے مطابق بھارتی افواج نے سیالکوٹ، شکرگڑھ، مریدکے، بہاولپور، کوٹلی اور مظفرآباد جیسے شہروں پر رات گئے میزائل، فضائی اور ڈرون حملے کیے۔
ان حملوں میں متعدد معصوم شہری شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ مساجد اور شہری انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان نے 22 اپریل کے واقعے کے بعد شفاف تحقیقات کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت نے جان بوجھ کر سچ چھپانے اور سیاسی مفادات کے لیے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر حملے کیے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کے حملے ناکام بناتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں 5 بھارتی طیارے اور متعدد ڈرونز مار گرائے گئے۔
مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جوابی کارروائی کا پورا حق حاصل ہے اور افواج پاکستان کو مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں۔
کمیٹی نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی غیرقانونی اور جنگی کارروائیوں کا نوٹس لیں اور اسے جوابدہ ٹھہرائیں۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی اشتعال انگیزی نے نہ صرف شہری زندگی، بلکہ خلیجی ممالک کی کمرشل پروازوں اور نیلم-جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی نے افواج پاکستان کی بہادری اور بروقت دفاع کو سراہا اور کہا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ متحد اور پرعزم ہے۔
کمیٹی کا مؤقف دوٹوک تھا کہ: “پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری، سالمیت اور عوام کو نقصان پہنچانے کی اجازت کبھی نہیں دے گا۔”