اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 3 ارب 45 کروڑ ڈالر کے واجبات ادا کر دیے ہیں۔ ایک ارب ڈالر کی رقم 23 اپریل کو ابو ظہبی فنڈ برائے ترقی کو واپس کی گئی، جبکہ 2 ارب 45 کروڑ ڈالر گزشتہ ہفتے ادا کیے گئے۔ اس طرح مجموعی طور پر 3 ارب 45 کروڑ ڈالر کی ادائیگی مکمل ہو گئی ہے۔
پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق، اس سے قبل ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بتایا تھا کہ پاکستان نے ماہ کے اختتام سے پہلے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدام ‘قومی وقار’ کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا، حالانکہ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
یہ رقم سنہ 2019 میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم کرنے کے لیے فراہم کی گئی تھی۔ تاہم مارچ میں پاکستان اس سہولت کو مزید مدت کے لیے بڑھوانے میں ناکام رہا، جو گزشتہ 7 برسوں میں پہلی بار ہوا اور اس سے قلیل المدتی مالی ضروریات کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق، 17 اپریل تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب 63 کروڑ ڈالر تھے۔ اسی ماہ پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے تین ارب ڈالر کی رقم بھی موصول ہوئی، جس کی دوسری قسط 21 اپریل کو ملی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی منڈیوں کی غیر یقینی صورتحال کے باعث بیرونی مالی وسائل پر انحصار اب بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔