نیوزی لینڈ کی آل راؤنڈر سوزی بیٹس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گی، یوں ان کا تقریباً 20 سال پر محیط کیریئر اختتام کو پہنچے جائے گا۔
سوزی بیٹس، جو حال ہی میں انجری کے بعد ٹیم میں واپس آئی ہیں، آئندہ عالمی کپ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ میں شامل ہوں گی اور مئی کے آغاز میں انگلینڈ کے دورے پر روانہ ہوں گی۔ نیوزی لینڈ اس وقت عالمی چیمپئن ہے اور بیٹس کا کہنا ہے کہ ان کا آخری ہدف ایک اور عالمی کپ جیتنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘جب میں اپنے 20 سالہ کیریئر پر نظر ڈالتی ہوں تو یقین نہیں آتا کہ وقت کتنی تیزی سے گزر گیا۔ میں فخر محسوس کرتی ہوں کہ میں نے اتنی بار اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ اب میرا ایک آخری مشن ہے کہ انگلینڈ جا کر ایک اور عالمی کپ جیتوں۔’
سوزی بیٹس نے 2003 میں 15 سال کی عمر میں ڈومیسٹک کرکٹ کا آغاز کیا جبکہ 2006 میں بین الاقوامی کیریئر شروع کیا۔ وہ خواتین ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑی ہیں جبکہ ایک روزہ کرکٹ میں بھی نمایاں کارکردگی کی حامل رہی ہیں۔
وہ 2011 میں نیوزی لینڈ ٹیم کی کپتان بنیں اور تقریباً 7 سال تک قیادت کی۔ 2016 میں انہیں دنیا کی بہترین خاتون کرکٹر قرار دیا گیا۔ کرکٹ کے علاوہ وہ باسکٹ بال میں بھی نیوزی لینڈ کی نمائندگی کر چکی ہیں اور 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں حصہ لیا۔
نیوزی لینڈ کی موجودہ کپتان امیلیہ کرر نے انہیں ‘ہر دور کی عظیم ترین کرکٹرز میں سے ایک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوزی بیٹس نہ صرف ایک بہترین کھلاڑی بلکہ ایک مثالی ساتھی بھی رہی ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
نیوزی لینڈ کرکٹ حکام کے مطابق سوزی بیٹس کا کھیل کے لیے کردار بہت بڑا رہا ہے اور وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط مثال چھوڑ کر جا رہی ہیں۔