بین الاقوامی اسلامی تہذیب کانفرنس، پاکستان کا ازبکستان کے ساتھ تعلیم، ٹیکنالوجی اور ثقافت میں تعاون بڑھانے پر زور

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے تاشقند میں اسلامی تہذیب سے متعلق پہلی بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

یہ پانچ روزہ کانفرنس 7 سے 11 جولائی تک “امن، رواداری اور روشن خیالی کا راستہ” کے عنوان سے جاری رہے گی۔

کانفرنس کا اہتمام انٹرنیشنل سینٹر فار اسلامک سولائزیشن نے کیا ہے، جس میں مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والے علما، پالیسی ساز اور ماہرین شریک ہیں۔

وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کانفرنس کے منتظمین کو مبارک باد دیتے ہوئے اسے مسلم ممالک کے درمیان علمی اور ثقافتی روابط مضبوط بنانے کا اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تہذیب کے تحفظ اور فروغ کے لیے مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ علامہ محمد اقبال نے ہمیشہ مسلم اتحاد پر زور دیا اور مسلمانوں کو تقسیم سے نکل کر مشترکہ ترقی کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے وسطی ایشیا اور برصغیر کے تاریخی و روحانی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کی فکر پر اس خطے کے معروف صوفی بزرگوں کا گہرا اثر تھا۔

اورنگزیب خان کھچی نے خواجہ معین الدین چشتی، سید علی ہمدانی، ضیا نخشبی اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بزرگ وسطی ایشیا سے برصغیر آئے اور اسلام کا پیغام پھیلایا۔ ان کے مطابق ان شخصیات نے برصغیر میں ایک مضبوط روحانی اور ثقافتی روایت قائم کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلمان اپنی شاندار تاریخ پر فخر کرتے ہیں، تاہم اس ورثے کے شایانِ شان مستقبل کی تعمیر کے لیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے ازبکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ پاکستان اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی، ثقافت اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں ازبکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے بھی کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں