ڈی آر کانگو میں ایبولا وائرس سے ہلاکتیں 600 ہو گئیں، عالمی ادارہ صحت

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطامق ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا سے ہلاکتوں کی تعداد 600 تک پہنچ گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مئی کے وسط میں وبا کے اعلان کے بعد ڈی آر کانگو میں اب تک ایبولا کے 1 ہزار 759 مصدقہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ صرف تین روز قبل ہلاکتوں کی تعداد 500 سے اوپر گئی تھی، تاہم اب یہ تعداد 600 ہو گئی ہے۔

ڈی آر کانگو میں اب تک 285 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، جبکہ وائرل ہیمرجک بخار کے 304 مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ایبولا سے اموات کی شرح 34 فیصد ہے۔

یوگنڈا میں بھی ایبولا سے 2 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ وہاں 20 مصدقہ کیسز میں سے 17 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

ڈی آر کانگو میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ این اینسیا کے مطابق وبا مسلسل پھیل رہی ہے اور اس کا حقیقی پھیلاؤ ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وائرس کی منتقلی اب بھی جاری ہے، اس لیے فی الحال صورتحال کو مستحکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

رپورٹ کے بتایا گیا ہے کہ شمال مشرقی ڈی آر کانگو میں یہ وبا 4 صوبوں تک پھیل چکی ہے، تاہم اس کا مرکز اتوری صوبہ ہے۔ موجودہ وبا ایبولا کی نایاب بنڈی بگیو قسم کی وجہ سے پھیل رہی ہے، جس کے لیے اب تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا باقاعدہ علاج موجود نہیں۔ ایبولا قریبی رابطے اور متاثرہ جسمانی رطوبتوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والے 10 ہزار سے زائد افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس وقت فالو اَپ کی شرح 82 فیصد ہے، جبکہ وبا پر قابو پانے کے لیے عالمی ادارہ صحت 95 فیصد شرح کو ضروری سمجھتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے ایبولا سے نمٹنے کے لیے 115 ملین ڈالر کی ضرورت ظاہر کی ہے، جس میں سے اب تک 32 فیصد رقم موصول ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں