پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ قونصلر رسائی معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی حراست میں موجود قیدیوں کی تازہ فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق 21 مئی 2008 کو ہونے والے معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو اپنی تحویل میں موجود قیدیوں کی تفصیلات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے 250 بھارتی قیدیوں کی فہرست کی ہے، جن میں 52 عام شہری اور 198 ماہی گیر شامل ہیں۔
دوسری جانب بھارت نے پاکستان کو 439 پاکستانی یا پاکستانی شہریت کے دعوے دار قیدیوں کی فہرست فراہم کی ہے۔ ان میں 386 عام شہری اور 53 ماہی گیر شامل ہیں۔
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 97 پاکستانی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کر کے وطن واپس بھیجے، کیونکہ ان کی سزائیں مکمل ہو چکی ہیں اور ان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ ان قیدیوں میں 64 عام شہری اور 33 ماہی گیر شامل ہیں۔
دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں بھارت پر زور دیا ہے کہ رہائی کے منتظر تمام پاکستانی اور پاکستانی شہریت کے دعوے دار قیدیوں کی حفاظت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے۔
بیان میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جن قیدیوں کی شہریت کی تصدیق ہونا باقی ہے، انہیں جلد از جلد قونصلر رسائی فراہم کی جائے تاکہ ان کی شناخت کا عمل مکمل ہو سکے اور وطن واپسی میں آسانی پیدا ہو۔