پاکستان بھارتی پروازوں سے سالانہ 100 ملین ڈالر کماتا ہے، فضائی حدود کی بندش خطے کی معیشت پر گہرا اثر ڈالے گی

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوائی حدود کے استعمال سے متعلق مالی لین دین خطے کی ہوا بازی معیشت میں ایک اہم پہلو کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب بھارتی طیارے پاکستان کی فضائی حدود سے گزرتے ہیں تو ان پر اوور فلائٹ چارجز عائد کیے جاتے ہیں، جو بین الاقوامی ہوا بازی اصولوں کے تحت طے پاتے ہیں۔ ان چارجز کا انحصار طیارے کے وزن، سفر کے فاصلے اور طے شدہ ہوائی راستے پر ہوتا ہے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق، پاکستان ہر بھارتی پرواز سے اوسطاً 0.20 سے 0.50 ڈالر فی کلومیٹر وصول کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اسے سالانہ تقریباً 50 ملین سے 100 ملین ڈالر تک آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

فضائی حدود کا یہ استعمال محض اقتصادی فائدے تک محدود نہیں، بلکہ اسے سفارتی تناؤ یا فوجی کشیدگی کے وقت ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر بھی برتا جاتا ہے۔ 2019 میں بالا کوٹ واقعے کے بعد جب پاکستان نے بھارتی پروازوں پر اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی، تو بھارتی ایئر لائنز کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پڑے، جس سے ان کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ متبادل راستوں میں بحر عرب کے اوپر سے مشرق وسطیٰ یا یورپ کی جانب سفر شامل رہا، جس سے پروازوں کا فاصلہ عام طور پر 200 سے 400 کلومیٹر تک بڑھ گیا۔ نتیجتاً، ہر پرواز کا دورانیہ 30 منٹ سے ایک گھنٹہ اور ایندھن کی کھپت 10 سے 20 فیصد تک بڑھ گئی۔

اس طرح کی بندش کا معاشی اثر دونوں ممالک پر پڑتا ہے۔ پاکستان کو اوور فلائٹ چارجز کی مد میں ہر ماہ تقریباً پانچ سے دس ملین ڈالر کی آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، جبکہ بھارت کی ایئر لائنز کو فی پرواز اضافی 15 ہزار سے 50 ہزار ڈالر تک اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2019 کی بندش کے دوران بھارتی ایئر لائنز کو تقریباً 70 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جس کے سبب انڈسٹری پر شدید مالی دباؤ پیدا ہوا۔ ماہرین کے مطابق اگر اس طرح کی فضائی بندش طویل مدتی ہو، تو بھارتی ہوابازی شعبے کو سالانہ 100 ملین سے 300 ملین ڈالر تک کے اضافی اخراجات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہوائی راستوں کی معطلی نہ صرف فوری مالی نقصان پہنچاتی ہے بلکہ طویل مدت میں ہوا بازی کے شیڈول، عالمی پروازوں کے اعتماد اور علاقائی اقتصادی رابطوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے اور ہوا بازی کے ماہرین مسلسل زور دیتے ہیں کہ فضائی حدود کو سفارتی یا سیاسی کشیدگی سے آزاد رکھا جائے، تاکہ خطے کی اقتصادی ترقی اور عالمی مسافروں کی سہولت کو نقصان نہ پہنچے۔

اپنا تبصرہ لکھیں