پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان منشیات کی روک تھام کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق، ڈھاکہ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط

پاکستان اور بنگلہ دیش نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک انٹیلی جنس کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں بڑھانے میں تعاون کریں گے۔

اس مقصد کے لیے دونوں ممالک نے جمعہ کے روز ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کا مقصد غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور منشیات کے استعمال کی روک تھام کو مضبوط بنانا ہے۔

دستخط کی تقریب ڈھاکہ کے انٹرکانٹینینٹل ہوٹل میں منعقد ہوئی، جہاں بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد اور پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے دستاویز پر دستخط کیے۔

بنگلہ دیشی وزارت داخلہ کے ڈپٹی چیف انفارمیشن آفیسر فیصل حسن کے مطابق اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک باقاعدگی سے معلومات کا تبادلہ کریں گے اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔

معاہدے کے مطابق دونوں ممالک مشتبہ افراد، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور منشیات کی ترسیل کے نئے طریقوں اور راستوں سے متعلق انٹیلی جنس شیئر کریں گے۔

اس کے علاوہ منشیات فروش گروہوں اور جرائم پیشہ تنظیموں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ، مشترکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں اور کنٹرولڈ ڈیلیوری جیسے اقدامات میں بھی تعاون کیا جائے گا۔

بنگلہ دیش کا محکمہ انسداد منشیات اور پاکستان کی انسداد منشیات فورس اس معاہدے میں مرکزی رابطہ اداروں کے طور پر کام کریں گے۔

معاہدے کے تحت تمام معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا اور کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کیا جائے گا۔

یہ مفاہمتی یادداشت 10 سال تک مؤثر رہے گی اور باہمی رضامندی سے اس میں توسیع کی جا سکے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں