غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کے بعد فلم ‘سکریم 7’ سے نکالا گیا، ہالی ووڈ اداکارہ میلیسا بیریرا کا انکشاف

میلیسا بیریرا نے فلم اسکریم 7 سے اپنی علیحدگی اور غزہ سے متعلق بیانات کے بعد ہالی وڈ میں سامنے آنے والے ردعمل پر پہلی بار تفصیلی گفتگو کی ہے۔

ویریائٹی کو دیے گئے انٹرویو میں اداکارہ نے کہا کہ 2023 میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید اور فلسطینی شہریوں کے حق میں سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کرنے کے بعد انہیں ہارر فلم فرنچائز سے الگ کر دیا گیا تھا۔

پروڈکشن کمپنی اسپائی گلاس میڈیا گروپ نے اُس وقت مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ ’’یہود مخالف نفرت یا نفرت انگیز تقاریر کے لیے صفر برداشت‘‘ کی پالیسی رکھتی ہے، تاہم میلیسا بیریرا نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

اداکارہ نے بتایا کہ اس تنازع کے بعد انہیں پیشہ ورانہ تنہائی کا سامنا کرنا پڑا اور کئی ماہ تک کام کے مواقع تقریباً ختم ہو گئے تھے۔ ان کے بقول یہ مرحلہ ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس نے انہیں اداکاری سے ہٹ کر اپنی شناخت کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کیا۔

میلیسا بیریرا نے کہا کہ اگرچہ یہ تجربہ مشکل تھا، لیکن انہوں نے کام جاری رکھا اور اس وقت وہ براڈوے کے تھیٹر شو ٹائٹانیک میں پرفارم کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق تھیٹر نے انہیں ہالی وڈ کے ہنگامہ خیز دور کے بعد تخلیقی اطمینان اور ذہنی سکون فراہم کیا۔

انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ انڈسٹری میں ہر فرد کو ایک جیسا ردعمل نہیں جھیلنا پڑتا، کیونکہ بعض شخصیات اسی نوعیت کی آرا کے اظہار کے باوجود پیشہ ورانہ نقصان سے محفوظ رہتی ہیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ اب وہ اپنے کیریئر کو نئے انداز میں آگے بڑھانے پر توجہ دے رہی ہیں، جس میں اپنی پروڈکشن کمپنی قائم کرنا اور نئے منصوبوں پر کام شامل ہے۔

ان کے مطابق اسکریم 7 سے وابستہ تنازع ان کے کیریئر کا ایک اہم باب ضرور بن چکا ہے، تاہم وہ اب مستقبل کی جانب ’’نئے عزم اور وسیع تر سوچ‘‘ کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں