پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 15 سال کے تعطل کے بعد دو طرفہ فارن آفس مشاورت کا عمل دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق یہ مشاورتی اجلاس ڈھاکا میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریز نے اپنے وفود کی قیادت کی۔

اجلاس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی تعاون اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان کی نمائندگی، آمنہ بلوچ نے کی، جنہوں نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے خارجہ امور کے مشیر، محمد توحید حسین سے علیحدہ ملاقات بھی کی۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار رواں ماہ کے آخر میں بنگلہ دیش کا دورہ کرنے والے ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید بہتری کی توقع ہے۔
دریں اثنا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ‘جوائنٹ بزنس کونسل’ کے قیام کی تیاریاں بھی جاری ہیں، تاکہ تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان میں تعینات بنگلہ دیشی ہائی کمشنر، اقبال حسین خان نے کہا ہے کہ، پاکستان کی بنگلہ دیش کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، خصوصا اگر پاکستانی مصنوعات کی قیمتیں مسابقتی ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ، پاکستان کپاس، چینی، چاول اور گندم جیسے اجناس برآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ گزشتہ مالی سال 2023-24 میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے زائد کی برآمدات کیں، جبکہ پاکستان سے 6 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زائد کی درآمدات کی گئیں۔
اقبال حسین خان نے مزید کہا کہ، پاکستان، افغانستان اور ایران کی مصنوعات کے لیے ایک گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے ڈھاکا بھی پاکستان کے ذریعے ان ممالک سے اشیا درآمد کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی پر بات چیت جاری ہے، جو تجارتی اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو گی۔