پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی بندش سے کس کو زیادہ نقصان ہوگا؟

افغانستان کے نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان تاجروں کو پاکستان کے بالمقابل متبادل تجارتی راستے اختیار کرنے اور معاہدے معطل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اکتوبر کے مہینے میں سخت سرحدی جھڑپیں اور مذاکراتی ادوار کے بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ملا برادر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کا متبادل راستے کے ذریعے تجارت کا فیصلہ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس سے ٹرانزٹ ٹریڈ کے مسائل کم اور افغانستان میں مقیم دہشت گردوں کی پرتشدد کارروائیوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔

پاک افغان سرحد تجارت سمیت تمام قسم کی آمدورفت کے لیے تقریباً 12 اکتوبر سے بند ہے۔ اس دوران افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے چمن اور طورخم سرحد کو وقتی طور پر کھول دیا گیا، تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق سرحد سے متعلق دیگر سرگرمیاں تاحکم ثانی معطل رہیں گی۔ اس فیصلے نے سرحد کے دونوں جانب سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے تجارت سے وابستہ افراد کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کن زمروں میں ہوتی ہے؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تین طریقوں سے تجارت ہوتی ہیں۔ پاکستان نے جنیوا کنونشن کے تحت افغانستان کو کراچی بندرگاہ کے ذریعے سمندر تک تجارتی راستہ فراہم کیا ہے۔ دوسری طرف وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے پاکستان افغانستان کو بطور راہداری استعمال کرتا ہے، جبکہ باہمی اور مقامی تجارت ان دونوں کے علاوہ ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور چمن چیمبر کے سابق صدر دارو خان اچکزئی نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ “پاکستان کے قیام سے پہلے بھی افغانستان وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کے درمیان تجارتی راہداری کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ چمن تک بچھائی جانے والی انگریزوں کی ریلوے لائن نے افغانستان کے تازہ اور خشک میوے پورے ہندوستان تک پہنچائے۔”

ان کے مطابق بعد میں آپسی تعلقات میں سرد مہری سے تجارت کو علیحدہ کرتے ہوئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہوا، جو 2010 میں توسیع پا کر افغانستان کو سمندر کے راستے تجارتی راستہ اور بھارت تک واہگہ کے ذریعے رسائی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی اس معاہدے کو ناکافی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “صدیوں سے افغانستان کراچی بندرگاہ کو دنیا کے ساتھ تجارت کے لیے استعمال کرتا ہے۔ روسی انخلاء اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے قیام کے بعد انہیں دیگر راہداریاں میسر آئیں، لیکن پھر بھی زیادہ تر تجارت پاک افغان ٹرانزٹ راستے کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔”

وہ کہتے ہیں کہ جینیوا کنونشن کے تحت دی جانے والی ٹرانزٹ سہولت اور باہمی تجارت کے علاوہ افغانستان کی سرحد پر مقامی تجارت بھی ہوتی ہے جو اطراف میں آباد سینکڑوں افراد کے لیے اہم ذریعہ معاش ہے۔

“2010 میں ہونے والے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدےکی غیر فعالی کے نتائج ہم اس وقت بھگت رہے ہیں۔ یہ ناکافی معاہدہ عجلت میں ہوا تھا، جس میں تمام فریقین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ پچاس سالوں سے اس تجارت سے وابستہ افراد کی مشاورت سے اس معاہدے میں کمی کوتاہیوں کو دور کرنے سے مسائل کافی حد تک ٹھیک ہوجائیں گے۔”

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی بندش سے کس کو زیادہ نقصان ہوگا؟

خوراک، صنعتی اشیاء اور تعمیراتی مصنوعات کے علاوہ تمام ضروریات زندگی کی اشیاء پاکستان سے افغانستان بھیجی جاتی ہیں، جبکہ افغانستان سے بھی تازہ سبزیاں، میوے، کارپٹ، کاٹن اور کوئلہ سمیت کئی اہم معدنیات درآمد ہوتی ہیں۔

دارو خان اچکزئی کے مطابق “اس وقت کراچی بندرگاہ اور باہمی تجارت کی مد میں دونوں ممالک کے تاجروں کی بہت ساری رقم عدم ادائیگی اور سامان بندش کی وجہ سے نقصان کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ہم اپنے اپنے حکام کے ساتھ رابطے کر رہے ہیں۔ افغان حکومت کا یہ انتہائی قدم جہاں دونوں جانب کے لیے بہت نقصان دہ ہے، وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ اس راستے کے نقصانات سے تنگ آگئے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ “ایک دوسرے کے نقصانات کا توازن نکالنا درست بات نہیں کیونکہ اس فیصلے سے دونوں طرف تاجر متاثر ہوں گے۔ پاکستان کی برآمدات اور درآمدات تقریباً ایک، ایک ارب ڈالر سے زائد بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی تاجر وہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں، جبکہ افغانستان سے درآمد ہونے والے معدنیات قدروقیمت کے اضافے کے ساتھ پاکستان آگے مارکیٹوں میں منتقل کرتا ہے۔ اس حساب سے پاکستانی تاجروں کا نقصان افغانستان کے مقابلے میں زیادہ ہے۔”

بلوچستان کے عوام کی بات کرتے ہوئے کوئٹہ چیمبر کے سابق عہدیدار اور تاجر بدر الدین نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “ریاستی سطح پر نقصان کے علاوہ چمن سے لے کر کراچی بندرگاہ تک ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر طویل تجارتی راستے سے بلوچستان کی سروس بیسڈ انڈسٹری وابستہ ہے۔ آمدورفت، ہوٹلز، لوڈنگ اور ان لوڈنگ، پٹرول پمپس۔۔۔یہ سارے روزگار اس تجارتی راستے سے منسلک ہیں، جو معطل ہونے کی صورت میں بری طرح متاثر ہوں گے۔”

انہوں نے کہا کہ “دونوں طرف حکومتوں کو سرحد پر سامان سے لدی گاڑیوں کے نقصانات کا کوئی اندازہ نہیں۔ خوراک کے سامان کی خرابی سے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی تمام عمر کی جمع پونجی ایک اعلان سے لگائی جانے والی قدغنوں سے ضائع ہوجاتی ہے۔ یہ خریدا گیا سامان اور اس پر صرف کی جانی والی رقم واپس نہیں ہوتی اور وہاں ٹرکوں میں پڑا پڑا خراب ہوجاتا ہے۔”

تاہم ضیاء الحق سرحدی کا خیال ہے کہ “دنیا کے ساتھ تجارت کے لیے ہم زیادہ تر افغانستان پر انحصار نہیں کرتے، البتہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی میں فرق ضرور آئے گا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک سختی کے بجائے نرمی کا رویہ اپنائیں کیونکہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے کی بندش سے چھ دیگر ریاستوں کا راستہ بھی بند ہوجاتا ہے۔”

“اس وقت ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو حالیہ جھڑپوں سے لے کر اب تک پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جبکہ کسٹم کی مد میں روازنہ ایک ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اور یہی نقصان افغان حکومت بھی اٹھارہی ہے۔”

دارو خان اچکزئی کے مطابق “برآمدات اور درآمدات کی مد میں افغانستان پاکستانی تاجروں کے لیے دو ارب ڈالر کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ درآمدات پاکستانی روپے میں ہوتی ہے، جس پر کوئی زر مبادلہ خرچ نہیں آتا اور قدر و قیمت کے ساتھ اسے آگے پہنچایا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں صنعتی شعبہ زیادہ مستحکم نہیں، اس وجہ سے لوگ اسی راستے تجارت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مناسب طور پر حکومت کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے تاکہ ہم سیاسی اور مالی سطح پر اس کا فائدہ اٹھا سکیں۔”

افغانستان کے پاس متبادل تجارتی راستوں میں کیا مشکلات ہیں؟

افغانستان کے لیے تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور ایران کی صورت میں دیگر سرحدی راستے تو موجود ہیں، لیکن ماہرین سمجھتے ہیں کہ سب سے آسان راستہ پاکستان ہے۔ دارو خان اچکزئی نے بتایا کہ “یہاں کراچی میں افغانستان کے اپنے نمائندے موجود ہوتے ہیں اور آنے جانے کا بھی اتنا مسئلہ نہیں ہوتا۔ ایران کے معاملے میں ان کی گرفت اس قدر مضبوط نہیں ہے، البتہ اگر ہم انہیں اس طرح مزید موقع دیں گے تو عنقریب ان کا انحصار ختم ہوجائے گا۔”

بدر الدین نے بتایا کہ “افغان تاجروں کے پاس متبادل کئی راستے موجود ہیں، لیکن اس میں سہولیات کا فقدان ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان زبان اور ثقافت میں ہم آہنگی کی وجہ سے تجارتی لین دین قدرے آسان ہوتی ہے۔ دونوں ممالک کے تاجر ایک دوسرے کو سمجھتے ہوئے مناسب ڈیل کرلیتے ہیں۔ بین الاقوامی تجارتی قوانین کے تحت ادائیگی پہلے کرنی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے متبادل راستوں سے افغان تاجروں کی گزر بسر تو ہوجائے گی، لیکن وہ اس قدر فائدہ مند اور آسان نہیں ہوگی۔”

ضیاء الحق سرحدی نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ “ٹرانزٹ معاہدے کے وقت یہ فیصلہ بھی ہوا تھا کہ وقتاً فوقتاً مسائل کے پیش نظر اس پر گفت و شنید ہوگی، لیکن بدقسمتی سے ایک بار بھی اس پر بیٹھ کر جائزہ نہیں لیا گیا۔ پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے قیام کا مقصد بھی یہی تھا، لیکن ہماری لاکھ کوششوں کے باوجود کوئی اس معاہدے کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے تیار نہیں ۔ اس لیے ہماری سہولتوں اور تاجروں کے آپس میں روابط کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا آسان ہے کہ افغانستان کے لیے متبادل راستے آسان نہیں ہوں گے۔”

Author

اپنا تبصرہ لکھیں