مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں 22 اپریل 2025ء کو ہونے والے دہشت گرد حملے نے عالمی سطح پر ایک بار پھر کشمیر کے تنازعے کو اجاگر کیا ہے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ اس واقعے کی ذمہ داری ایک کم معروف گروپ ‘دی ریزسٹنس فرنٹ’ (ٹی آر ایف) نے قبول کی تھی، لیکن بعد میں اس نے اپنا دعویٰ واپس لے لیا۔
اس حملے کے بعد امریکہ، بھارت، پاکستان اور چین کی جانب سے اہم بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے ٹی آر ایف کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔امریکہ نے 18 جولائی 2025ء کو دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو ایک ‘غیر ملکی دہشت گرد تنظیم’ قرار دے دیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ ٹی آر ایف کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کا ایک شاخ ہے۔
روبیو نے نے اس اقدام کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ امریکی قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان کا ردعمل
پاکستان نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کر دیا ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ بھارت اس امریکی فیصلے کو اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ پاکستان نے پہلگام حملے کی مذمت کی اور اس کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا، جبکہ بھارت کے اس الزام کو مسترد کیا کہ اس حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے
بھارت کا خیرمقدم
بھارت نے امریکہ کے اس فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ٹی آر ایف لشکرِ طیبہ کی ایک پراکسی تنظیم ہے، جس نے پہلگام حملے سمیت کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسے بھارت امریکہ انسداد دہشت گردی تعاون کی ایک مضبوط علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشت گرد تنظیموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
چین کا موقف
چین نے بھی پہلگام حملے کی مذمت کی ہے اور خطے کے ممالک سے انسداد دہشت گردی کے تعاون کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چین نے ابتدائی طور پر اس حملے کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب اس نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کی حمایت کی ہے۔
دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کیا ہے؟
دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) 2019ء میں مقبوضہ کشمیر میں ابھری ایک تنظیم ہے، جو بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد وجود میں آئی۔ بھارتی حکام کے مطابق، یہ تنظیم لشکرِ طیبہ کی ایک شاخ ہے، جو کشمیر میں غیر مقامی افراد کو نشانہ بناتی ہے۔ ٹی آر ایف نے ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیاں شروع کیں اور 2020ء سے چھوٹے پیمانے پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
اس تنظیم نے پہلگام حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، لیکن بعد میں اسے واپس لے لیا، جسے ماہرین دہشت گردی کے خلاف عوامی ردعمل سے بچنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔