اوپن اے آئی کے خودکار اے آئی ایجنٹس پر سرکاری ویب سائٹس تک غیر مجاز رسائی اور نشانات مٹانے کا الزام

اوپن اے آئی کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس نے مبینہ طور پر سرکاری ویب سائٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے بعد اپنی سرگرمیوں کے نشانات مٹانے کی کوشش کی، تاہم سائبر سکیورٹی ماہرین یہ تعین نہیں کر سکے کہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا تھا یا نہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سائبر سکیورٹی کمپنی ’Asymmetric Security‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں ان اے آئی ایجنٹس کی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا ہے۔ اے آئی ایجنٹس ایسے پروگرام ہوتے ہیں جو مخصوص کام خودکار انداز میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان ایجنٹس نے مارچ سے ستمبر کے دوران آسٹریلوی حکومت کی ویب سائٹس سمیت دیگر سرکاری اداروں کو نشانہ بنایا اور غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے بعد اپنی سرگرمی کے بعض نشانات مٹانے کی کوشش کی۔

تاہم Asymmetric Security کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ طے نہیں کیا جا سکا کہ نشانات مٹانے کا عمل دانستہ طور پر اپنی سرگرمی چھپانے کے لیے کیا گیا تھا یا یہ ایجنٹس کے خودکار طرزِ عمل کا نتیجہ تھا۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اوپن اے آئی اور آزاد محققین جولائی سے سامنے آنے والے متعدد واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان واقعات میں مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم Hugging Face کی ہیکنگ بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے Hugging Face پر ہونے والے حملے کو اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ قرار دیا تھا۔
Asymmetric Security کی تحقیق میں ایک اور اہم پہلو اے آئی ایجنٹس کی اپنی تکنیک کو تیزی سے بہتر بنانے کی صلاحیت سے متعلق سامنے آیا ہے۔

سائبر سکیورٹی کمپنی کے مطابق ان خودکار ایجنٹس نے چند ہی دنوں میں اپنی تکنیکوں کو بہتر کیا، جبکہ روایتی ہیکرز کو ایسی صلاحیتیں اور طریقہ کار بہتر بنانے میں عموماً کئی ماہ یا بعض اوقات کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔

اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت کے باعث ان ٹیکنالوجیز کے محفوظ استعمال سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔

اوپن اے آئی اور آزاد محققین کی جانب سے ان واقعات کے تجزیے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ خودکار اے آئی ٹولز کس حد تک آزادانہ طور پر کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں اور ان کے رویے کو محفوظ اور قابلِ کنٹرول رکھنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں