چین نے 2028 کے اختتام تک مریخ کی سطح کا جامع ارضیاتی نقشہ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس میں سیارے کی چٹانوں، سطحی ساخت اور مختلف ارضیاتی خصوصیات کی تفصیلی نشاندہی کی جائے گی۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر اور تیان وین-3 مشن کے چیف سائنس دان ہو زینگ چیان کے مطابق نئے سائنسی شواہد کی بنیاد پر مریخ کے ارضیاتی ادوار کی درجہ بندی کے لیے چین اپنا الگ نظام بھی تشکیل دے گا۔
اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت کو بھی کلیدی حیثیت حاصل ہوگی۔ اے آئی کی مدد سے مریخ سے حاصل ہونے والے ریموٹ سینسنگ ڈیٹا کا تجزیہ کرکے مختلف علاقوں کی ارضیاتی خصوصیات کی نشاندہی کی جائے گی۔
چین کے ژورونگ روور سے حاصل ہونے والے شواہد کے مطابق تقریباً 3.5 ارب سال قبل مریخ پر ایک قدیم سمندر موجود تھا، جبکہ تقریباً 1.6 ارب سال قبل ممکنہ طور پر آنے والے ایک مختصر مدتی سیلاب کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں۔ یہ معلومات نئے ارضیاتی نقشے کی تیاری میں شامل کی جائیں گی۔
چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ پر آزمائے جانے والے اس نقشہ سازی کے طریقہ کار کو مستقبل میں چاند، زہرہ اور مختلف سیارچوں کے مطالعے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
چین کا مریخ سے متعلق تیان وین-3 مشن 2028 میں روانہ کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جسے سرخ سیارے کی تحقیق میں ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔