روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق دھمکی آمیز بیانات سے گریز کرے، کیونکہ ایسی دھمکیاں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ بیان روس کی جانب سے نیٹو کو بھیجے گئے ایک سفارتی پیغام کے بعد سامنے آیا، جس میں ماسکو نے خبردار کیا کہ اگر کالینن گراڈ کو روس کے دیگر علاقوں سے کاٹنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے تمام دستیاب ذرائع، حتیٰ کہ جوہری ہتھیاروں، کے استعمال پر غور کرسکتا ہے۔

کالینن گراڈ روس کا اہم عسکری خطہ ہے جو پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان بحیرۂ بالٹک کے ساحل پر واقع ہے۔ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اسے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ نیٹو اس علاقے کی فضائی اور بحری ناکہ بندی کی تیاری کر رہا ہے، تاہم نیٹو نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

مارک روٹے کا کہنا ہے کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے اور روس کی جانب سے جوہری دھمکیوں کا استعمال نہ ضروری ہے اور نہ ہی صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ہے۔ ان کے مطابق نیٹو کے موجودہ جائزے میں روس کی جانب سے رکن ممالک کی سرزمین پر کسی قریبی مدت کے حملے کا فوری خطرہ موجود نہیں۔

کالینن گراڈ کی حساسیت کی ایک وجہ وہاں روس کی نمایاں فوجی موجودگی بھی ہے، جبکہ خطے میں جوہری صلاحیت رکھنے والے اسکندر میزائل نظام بھی موجود ہیں۔

دوسری جانب نیٹو بھی جوہری صلاحیت رکھتا ہے اور اسے اپنی مجموعی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ اتحاد کے مطابق جوہری ہتھیاروں کا استعمال انتہائی غیر معمولی حالات تک محدود ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں