پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق بلوچستان میں جاری آپریشن کے دوران مزید 9 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ “آپریشن شعبان” بلوچستان بھر میں جاری ہے، جس میں پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور اور پولیس دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف مشترکہ فضائی اور زمینی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تازہ کارروائی میں 9 دہشت گرد مارے گئے، جس کے بعد آپریشن شعبان کے تحت ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 52 ہو گئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز سمیت مجموعی طور پر 88 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور اور پولیس 5 جولائی سے کوئٹہ ضلع کے علاقے شعبان میں مشترکہ کارروائی کر رہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر پولیس پوسٹ حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف شروع کیا گیا تھا۔
اس حملے میں پہلے 9 پولیس اہلکار، جن میں دو ایس ایچ اوز بھی شامل تھے، شہید ہوئے، جبکہ 21پولیس اہلکاروں کو دہشت گرد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ بعد میں اغوا کیے گئے پولیس اہلکاروں کو بھی قتل کر دیا گیا، جن کی لاشیں زرغون غر کے پہاڑی علاقے سے ملی تھیں۔
اس سے قبل ریڈیو پاکستان نے جمعہ کو رپورٹ کیا تھا کہ بلوچستان میں 5 جولائی کے بعد سے 79 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں نے جمعہ کی صبح خضدار کے علاقے زیدی میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش کی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست کی عمل داری ہر صورت برقرار رکھی جائے گی اور دہشت گرد اپنے انجام سے نہیں بچ سکیں گے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی بلوچستان میں حالیہ حملوں کے بعد کہا تھا کہ سول اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور یکسو فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان سے متعلق صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔