جنوبی ویتنام میں ایک سیاحتی تیز رفتار کشتی الٹنے سے 15 بھارتی سیاح ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حادثہ ہفتے کے روز فو کوک کے قریب ہون مے رت نگوا آئی لینڈ سے واپسی کے دوران پیش آیا۔
حکام کے مطابق کشتی میں 32 بھارتی سیاح اور عملے کے 4 ارکان سوار تھے۔ رپورٹ کے مطابق کشتی ہون مے رت نگوا آئی لینڈ سے تقریباً 400 میٹر کے فاصلے پر الٹ گئی۔حادثے کے بعد قریبی کشتیوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی اور لوگوں کو پانی سے نکالنا شروع کیا۔ بعد ازاں، سرحدی محافظ، بحریہ، ساحلی محافظ دستے اور دیگر امدادی ادارے بھی موقع پر پہنچ گئے۔
ویتنامی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائی مشکل تھی کیونکہ کئی مسافر کشتی کے اندر پھنس گئے تھے۔ حکام کے مطابق 21 افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ تمام ہلاک شدگان کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق، زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پانی پر چلنے والی چھوٹی موٹر گاڑیوں کے ذریعے بعض بچ جانے والوں کو ساحل تک پہنچایا گیا، جہاں موجود لوگوں نے متاثرین کو ابتدائی طبی امداد دی۔
ویتنام کے وزیراعظم لی من ہنگ نے حادثے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے حکام کو ذمہ داروں کا تعین کرنے اور حادثے کے مقام سمیت دیگر سیاحتی آبی راستوں پر سمندری حفاظت کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویتنام کے شہر فو کوک کے قریب بھارتی شہریوں سے متعلق کشتی حادثے کی افسوسناک خبر سن کر شدید دکھ ہوا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ جن خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، ان سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔ زخمی بچ جانے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا سفارت خانہ اور قونصل خانہ ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں، اور حکام ویتنامی حکام کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہیں۔
فو کوک خلیج تھائی لینڈ میں واقع ویتنام کے مقبول ترین ساحلی مقامات میں شامل ہے۔ ہون مے رت آئی لینڈ، فو کوک سے تقریباً 10 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور اپنی سفید ریت، صاف پانی اور سیاحتی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے۔
حکام کے مطابق حادثے کی حتمی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔