وسطی ایشیا کے بدلتے جغرافیائی حالات، ازبکستان کے نئے منصوبے کیا ہیں؟

وسطی ایشیا میں بدلتے جغرافیائی حالات کے باعث نئے تجارتی اور نقل و حمل کے راستوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے، اور ازبکستان اب خود کو خطے کے اہم نقل و حمل مرکز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا کے مطابق ازبکستان اپنی گزرگاہی صلاحیت کو بہتر بنا کر قازقستان کے اس کردار کو چیلنج کرنا چاہتا ہے، جو اس وقت وسطی ایشیا کا سب سے اہم زمینی گزرگاہی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

یوکرین جنگ، روس پر پابندیوں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی رسد کے نظام میں تبدیلیوں کے بعد یورپ اور ایشیا کے درمیان متبادل زمینی راستوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اسی تناظر میں قازقستان اور ازبکستان دونوں اپنے ریلوے، سڑکوں، نقل و حمل مراکز اور سرحدی نظام کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

ازبکستان کے منصوبے کیا ہیں؟
ازبکستان کا مؤقف ہے کہ وہ مشرق اور مغرب کو ملانے والی اہم جغرافیائی پوزیشن رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ازبکستان میں تقریباً 4 ہزار کلومیٹر طویل بین الاقوامی گزرگاہی راستے موجود ہیں، جبکہ اس کا ریلوے جال تقریباً 4 ہزار 700 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ تاشقند، نوائی اور نمنگان میں جدید نقل و حمل مراکز اور خشک بندرگاہیں قائم کی جا رہی ہیں۔ نوائی ہوائی اڈہ پہلے ہی یوریشیا کے فضائی مال برداری راستوں پر ایک اہم مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔

ازبک حکام کے مطابق چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے اور مجوزہ ٹرانس افغان ریلوے مکمل ہونے کے بعد ملک کی علاقائی اور عالمی نقل و حمل کے جال میں اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ منصوبہ سازوں کا دعویٰ ہے کہ یہ راستے مکمل ہونے کے بعد ازبکستان بحرالکاہل اور یورپ کے درمیان مختصر ترین زمینی راستے کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔

ازبک حکام کے مطابق اس سے مال برداری کا سفر تقریباً 8 دن تک کم ہو سکتا ہے، تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس تخمینے کا طریقہ کار اور آغاز و اختتام کے مقامات واضح نہیں کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بندرگاہوں کراچی اور گوادر تک رسائی ازبکستان کو بحرِ ہند اور جنوبی ایشیا کی بڑی منڈیوں تک راستہ فراہم کر سکتی ہے۔

تاہم گوادر ابھی پاکستان کے مرکزی ریلوے جال سے منسلک نہیں، اس لیے اس راستے کو عملی طور پر مؤثر بنانے کے لیے مزید بڑے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہو گی۔

ازبکستان کے لیے چیلنجز
ازبک حکام کے مطابق چین اور یورپ کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 800 ارب ڈالر ہے، جبکہ مال برداری کا حجم 120 سے 150 ملین ٹن سالانہ تک پہنچتا ہے۔ ازبکستان کا اندازہ ہے کہ اگر وہ سالانہ مزید 15 سے 20 ملین ٹن بین الاقوامی گزرگاہی مال حاصل کر لے تو اسے 400 سے 600 ملین ڈالر آمدنی ہو سکتی ہے۔

حکام کے مطابق اس سے نقل و حمل سہولتوں میں تقریباً 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آ سکتی ہے اور 50 ہزار مستقل ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ صدارتی انتظامیہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس سے ازبکستان کی سالانہ معاشی ترقی میں 1.5 سے 2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق ان اعداد کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی۔

2025 میں ازبکستان کا گزرگاہی مال برداری حجم 15.3 ملین ٹن تک پہنچا، جو 2021 کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ تھا۔ اس کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ بنیادی ڈھانچہ اس سے کہیں زیادہ حجم سنبھال سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ازبکستان کے کئی سرحدی مقامات ابھی بین الاقوامی مال برداری کو تیزی سے نمٹانے کی پوری صلاحیت نہیں رکھتے۔ ملک میں بین الاقوامی معیار کے 27 نقل و حمل مراکز موجود ہیں، جن کی مجموعی گنجائش تقریباً 27.2 ملین ٹن ہے، مگر ان میں صرف ایک مرکز اعلیٰ درجے کا سمجھا جاتا ہے۔

اعلیٰ درجے کے خودکار گوداموں کی گنجائش موجودہ طلب کے صرف 10 سے 15 فیصد تک محدود ہے، جبکہ ٹھنڈے ذخیرہ اور کسٹم گوداموں کی بھی کمی ہے۔ اس کے علاوہ نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ زیادہ تر تاشقند اور اس کے اطراف تک محدود ہے۔ کنٹینر کے استعمال کی شرح کم ہے، سرکاری معلوماتی نظام نجی نقل و حمل کے اداروں کے ساتھ مکمل طور پر مربوط نہیں، اور شعبے کی ڈیجیٹل ترقی بھی ابھی کمزور ہے۔

قازقستان کی مضبوط پوزیشن
قازقستان بھی ازبکستان کی طرح خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے، مگر گزشتہ کئی برسوں میں اس نے خود کو ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک اہم گزرگاہی مرکز کے طور پر مضبوط کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرانس کیسپین بین الاقوامی نقل و حمل راستہ، جسے درمیانی راہداری بھی کہا جاتا ہے، پر مال برداری کی آمد و رفت 2020 کے بعد تقریباً چھ گنا بڑھا ہے۔2025 میں قازقستان نے 36.9 ملین ٹن گزرگاہی مال سنبھالا، جو 2024 کے مقابلے میں 6.6 فیصد زیادہ تھا۔

قازقستان میں کُل نقل و حمل کے شعبے کے تحت ریلوے نے 320 ملین ٹن مال برداری کی، جبکہ سمندری نقل و حمل نے 8 ملین ٹن مال سنبھالا۔ قازقستان کے پاس مشرق-مغرب اور شمال-جنوب کو ملانے والے چار بڑے بین الاقوامی نقل و حمل راستے موجود ہیں۔

مغربی یورپ-مغربی چین شاہراہ بھی قازقستان سے گزرتی ہے، جس کا قازق حصہ تقریباً 2 ہزار 787 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ راستہ روس کے وولگا علاقے کو چین کی بندرگاہ لیانیونگانگ سے جوڑتا ہے اور روایتی سمندری راستوں کا زمینی متبادل فراہم کرتا ہے۔

قازقستان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ چینی مال براہِ راست قازقستان میں داخل ہو کر بحیرہ کیسپین تک پہنچ سکتا ہے، جہاں سے اسے آذربائیجان، جارجیا اور ترکیہ کے راستے یورپ بھیجا جا سکتا ہے۔

درمیانی راہداری کی اہمیت کیوں بڑھ رہی ہے؟
روس-یوکرین جنگ، مغربی پابندیوں اور رسد کے نظام کو متنوع بنانے کی کوششوں نے درمیانی راہداری کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔2020 میں اس راستے سے صرف 8 لاکھ ٹن مال گزرا تھا، جبکہ 2024 تک یہ حجم 4.5 ملین ٹن تک پہنچ گیا۔
چند سال پہلے یہ راستہ ایک محدود متبادل سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ چین اور یورپ کو روس سے گزرے بغیر ملانے والا اہم ترین فعال راستہ بن چکا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق مناسب سرمایہ کاری اور عملی اصلاحات کے ذریعے درمیانی راہداری کا سفر کا وقت نصف کیا جا سکتا ہے اور 2030 تک بحیرہ کیسپین کے راستے مال برداری کا حجم 11 ملین ٹن تک پہنچ سکتا ہے۔

تاہم عالمی بینک کے مطابق یہ راستہ مکمل طور پر بین البراعظمی تجارتی راہداری بننے کے بجائے زیادہ تر علاقائی تجارتی راہداری ہی رہے گا، کیونکہ اس کے مال برداری کا 40 فیصد سے کم حصہ بین البراعظمی ہوگا۔

ازبکستان کے راستوں میں رکاوٹیں
ازبکستان کے مجوزہ راستوں کے سامنے بھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔ چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے کی تعمیر دسمبر 2024 میں باضابطہ طور پر شروع ہوئی، مگر ماہرین کے مطابق یہ راستہ زیادہ تر جنوبی کرغزستان، ازبکستان، تاجکستان اور مشرقی ترکمانستان کے لیے مال برداری کی منڈی پیدا کر سکتا ہے۔

کرغزستان کے پہاڑی علاقوں، خاص طور پر تورگارت درے کے قریب، سرنگوں اور پلوں کی بڑے پیمانے پر تعمیر کی ضرورت ہو گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس راستے پر آگے مغرب کی طرف مال بھیجنے کے لیے اضافی سرحدی کارروائیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، اور ہر سرحدی گزرگاہ سفر میں ایک دن تک اضافہ کر سکتی ہے۔

رپورٹ کےمطابق، ٹرانس افغان ریلوے کا مستقبل بھی ابھی غیر یقینی ہے۔ یہ منصوبہ ابھی قابلِ عمل ہونے کے جائزے اور منصوبہ بندی کے مراحل سے آگے نہیں بڑھا، جبکہ افغانستان میں بڑے پیمانے پر نئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے مالی وسائل، سیکیورٹی اور طالبان حکومت کی عالمی حیثیت جیسے مسائل موجود ہیں۔

مقابلہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند
ماہرین کے مطابق قازقستان اور ازبکستان کے درمیان نقل و حمل کا مقابلہ خطے کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ ازبکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور صدر شوکت مرزائیوف کے دور میں خطے کے ساتھ بڑھتے روابط نے وسطی ایشیا میں تعاون اور مقابلے دونوں کو نئی رفتار دی ہے۔

قازق تجزیہ کار دوسم ستپائیف کے مطابق ازبکستان کا مضبوط معاشی کھلاڑی بننا قازقستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ صحت مند مقابلہ پورے خطے کی رابطہ کاری کو بہتر بنا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وسطی ایشیا کو نسبتاً مستحکم خطہ سمجھا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار متبادل زمینی راستوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

فی الحال قازقستان کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے، کیونکہ اس کا ریلوے جال، درمیانی راہداری سے تعلق اور بحیرہ کیسپین تک مال کی نقل و حرکت پہلے سے فعال ہے۔

ازبکستان مستقبل میں جنوبی راستوں کے ذریعے زیادہ مال اپنی طرف کھینچ سکتا ہے، مگر اس کے اہم ترین منصوبے ابھی زیرِ تعمیر یا ابتدائی جائزے کے مرحلے میں ہیں۔

اسی لیے فی الحال قازقستان وسطی ایشیا کا نمایاں نقل و حمل مرکز برقرار ہے، جبکہ ازبکستان ایک ابھرتا ہوا حریف ہے جس کی کامیابی کا انحصار بنیادی ڈھانچے، کسٹم اصلاحات، ڈیجیٹل ترقی، مالی وسائل اور علاقائی سیکیورٹی پر ہو گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں